لندن (نیوز ڈیسک): برطانیہ میں مقیم سکھ کمیونٹی نے بنگلادیش کے حالیہ حالات اور طلبہ رہنما عثمان ہادی کے قتل کے خلاف لندن میں بنگلادیشی ہائی کمیشن کے باہر ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ مظاہرین نے بنگلادیشی حکومت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے بھارت کی پالیسیوں کی شدید مذمت کی۔
مظاہرین کے مطالبات اور نعرے
لندن میں جمع ہونے والے سکھ مظاہرین نے بھارت کے خلاف سخت نعرے بازی کی اور اپنے خطاب میں کہا کہ:
بنگلادیشی طلبہ رہنما عثمان ہادی کا قتل ضائع نہیں جائے گا بلکہ یہ ایک نئے انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔
مظاہرین کا دعویٰ تھا کہ بھارت کی مداخلت پسندانہ پالیسیاں اسے ٹکڑے ٹکڑے کر کے بکھیر دیں گی۔
عثمان ہادی کا قتل اور پسِ منظر
عثمان ہادی بنگلادیش میں حسینہ واجد کی حکومت کا تختہ الٹنے والی طاقتور طلبہ تحریک کے ترجمان تھے۔
واقعہ: چند روز قبل نامعلوم مسلح افراد نے ان پر فائرنگ کی تھی۔
انتقال: شدید زخمی ہونے کے بعد انہیں علاج کے لیے سنگاپور منتقل کیا گیا تھا، جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔
ردعمل: ان کے انتقال پر نہ صرف لندن بلکہ بنگلادیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں بھی بھارتی ہائی کمیشن کے باہر ہزاروں افراد نے احتجاج کیا تھا۔
سفارتی اثرات
سکھ کمیونٹی کی جانب سے بنگلادیشی تحریک کی حمایت اور بھارت کی مخالفت نے بین الاقوامی سطح پر توجہ حاصل کر لی ہے۔ مبصرین کے مطابق، یہ احتجاج ظاہر کرتا ہے کہ جنوبی ایشیا کی سیاست کے اثرات اب عالمی دارالحکومتوں تک پہنچ رہے ہیں۔






