اہم خبریںدنیا

روس کا یوکرین پر ہولناک حملہ: 500 ڈرونز اور 40 میزائلوں کی بوچھاڑ، توانائی کا نظام مفلوج

کیف (نیوز ڈیسک): روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں ایک بار پھر شدت آ گئی ہے۔ روسی افواج نے دارالحکومت کیف سمیت یوکرین کے مختلف شہروں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

جانی نقصان اور حملے کی شدت
یوکرینی حکام کے مطابق ان حملوں میں:

ہلاکتیں: کم از کم 2 افراد جان بحق جبکہ 2 بچوں سمیت 46 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

اسلحہ کا استعمال: صدر ولادیمیر زیلنسکی کے مطابق روس نے تقریباً 500 ڈرونز اور 40 میزائل داغے ہیں۔

الرٹ: دارالحکومت کیف میں مسلسل 10 گھنٹے تک فضائی حملے کے سائرن بجتے رہے۔

توانائی کے بحران میں اضافہ
شدید سردی کے موسم میں ان حملوں نے یوکرین کے انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچایا ہے:

توانائی کے مراکز کو نشانہ بنائے جانے سے لاکھوں گھر بجلی سے محروم ہو گئے ہیں۔

40 فیصد سے زائد رہائشی عمارتیں ہیٹنگ سسٹم (Heating System) سے محروم ہو چکی ہیں، جس سے انسانی المیہ جنم لینے کا خدشہ ہے۔

سیاسی و سفارتی تناظر
یہ حملے ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب صدر زیلنسکی نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لیے فلوریڈا روانہ ہو رہے ہیں۔

صدر زیلنسکی کا بیان: "روس نے ان حملوں کے ذریعے امریکہ کی ثالثی میں جاری امن کوششوں کا جواب دے دیا ہے۔ یہ واضح ہے کہ پیوٹن مذاکرات کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔”

جنگ بندی میں حائل رکاوٹیں
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ امن منصوبے میں سب سے بڑی رکاوٹیں درج ذیل ہیں:

مشرقی یوکرین کا علاقہ ڈونیسک۔

زاپوریزیا کے جوہری پاور پلانٹ کا مستقبل اور کنٹرول۔

دوسری جانب روس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ماسکو کی طرف آنے والے 8 یوکرینی ڈرونز کو مار گرایا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں جانب سے حملوں کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button