اہم خبریںتازہ تریندنیا

ڈونلڈ ٹرمپ کا بگرام ایئر بیس واپس لینے کا اعلان، برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر حیران

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) — سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان میں واقع بگرام ایئر بیس کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے ایک بار پھر عالمی سطح پر حیرت کی لہر دوڑا دی۔ برطانیہ کے دورے کے دوران وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ٹرمپ نے اس معاملے پر گفتگو کی، جس پر برطانوی وزیر اعظم کے چہرے کے تاثرات قابلِ توجہ تھے۔

پریس کانفرنس کے دوران ٹرمپ نے کہا:

"ہم افغانستان سے باعزت طریقے سے نکلنا چاہتے تھے، لیکن ہم نے بگرام ایئر بیس طالبان کو مفت میں دے دیا۔ یہ دنیا کے سب سے بڑے اور اسٹریٹیجک ایئر بیسز میں سے ایک ہے۔ اب ہم اسے واپس لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔”

ٹرمپ کے اس غیر متوقع بیان پر وزیر اعظم کیئر اسٹارمر ایک لمحے کے لیے خاموش ہو گئے اور ان کے چہرے پر حیرت کے آثار نمایاں ہو گئے۔ عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق، یہ لمحہ پریس کانفرنس کا سب سے حیران کن پہلو تھا، جس پر تجزیہ کاروں نے مختلف آراء پیش کی ہیں۔

امریکہ اور برطانیہ کے درمیان تجارتی معاہدہ

پریس کانفرنس سے قبل امریکہ اور برطانیہ کے درمیان ایک اہم تجارتی معاہدے پر دستخط ہوئے، جس کے بارے میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا:

"یہ معاہدہ ہماری ایک بڑی کامیابی ہے اور برطانیہ کے ساتھ تجارتی تعاون کو نئی بلندیوں پر لے جائے گا۔”

کیئر اسٹارمر نے بھی معاہدے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ڈیل دونوں ممالک کے معاشی مستقبل کے لیے مثبت ثابت ہوگی۔

ماہرین کا ردعمل

ٹرمپ کے بیان نے سفارتی و دفاعی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ:

اگر امریکہ واقعی بگرام ایئر بیس پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے، تو یہ نہ صرف طالبان حکومت کے ساتھ ایک بڑا ٹکراؤ ہوگا بلکہ خطے کی جیو اسٹریٹیجک صورتحال بھی بدل سکتی ہے۔

چین سے متعلق ٹرمپ کا اشارہ بھی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ "بگرام کے قریب چین نیوکلیئر ہتھیار تیار کر رہا ہے”۔

خلاصہ

ڈونلڈ ٹرمپ کا برطانیہ میں دیا گیا بیان نہ صرف برطانوی قیادت کے لیے چونکانے والا تھا بلکہ اس نے عالمی سیاسی منظرنامے میں ایک نئی بحث کا آغاز بھی کر دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا امریکہ واقعی بگرام ایئر بیس کے حوالے سے کوئی عملی قدم اٹھائے گا یا یہ بیان محض سیاسی دباؤ بڑھانے کی حکمتِ عملی ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button