پاکستان کی پہلی خاتون گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر شمشاد اختر انتقال کر گئیں
کراچی (نیوز ڈیسک): پاکستان کی معروف ماہرِ معاشیات اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی پہلی خاتون گورنر ڈاکٹر شمشاد اختر حرکتِ قلب بند ہونے کے باعث انتقال کر گئیں۔ وہ ملکی اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں میں ایک معتبر نام کی حیثیت رکھتی تھیں۔
نمازِ جنازہ اور تدفین
خاندانی ذرائع کے مطابق ڈاکٹر شمشاد اختر کی نمازِ جنازہ کل بعد نمازِ ظہر کراچی میں ادا کی جائے گی، جس میں سیاسی، سماجی اور معاشی شعبوں سے وابستہ اہم شخصیات کی شرکت متوقع ہے۔
تعلیمی پس منظر
ڈاکٹر شمشاد اختر حیدرآباد میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم کراچی اور اسلام آباد سے حاصل کی۔ ان کا تعلیمی سفر انتہائی شاندار رہا:
1974: پنجاب یونیورسٹی سے بی اے اکنامکس کیا۔
ایم ایس سی: قائد اعظم یونیورسٹی، اسلام آباد سے معاشیات میں ماسٹرز کیا۔
1977: برطانیہ کی یونیورسٹی آف سسیکس سے ڈیولپمنٹ اکنامکس میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔
1980: برطانیہ کے پیسلے کالج آف ٹیکنالوجی سے معاشیات میں پی ایچ ڈی (ڈاکٹریٹ) مکمل کی۔
پیشہ ورانہ خدمات اور اعزازات
ڈاکٹر شمشاد اختر کو یہ منفرد اعزاز حاصل تھا کہ وہ 2 جنوری 2006 کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی 14 ویں اور پہلی خاتون گورنر مقرر ہوئیں۔ اپنے دورِ ملازمت میں انہوں نے بینکنگ سیکٹر میں اہم اصلاحات متعارف کروائیں۔
وہ اقوامِ متحدہ میں انڈر سیکرٹری جنرل اور پاکستان کی نگران وزیرِ خزانہ کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکی تھیں۔ ان کی وفات کو پاکستان کے معاشی حلقوں کے لیے ایک بڑا خلا قرار دیا جا رہا ہے۔






