اہم خبریںتازہ تریندنیا

جرمنی کا سنگین جرائم میں ملوث افغان باشندوں کی ملک بدری کا سلسلہ تیز، ایران سے بھی لاکھوں بے دخل

برلن / کابل: جرمن حکومت نے سیکیورٹی پالیسی سخت کرتے ہوئے مسلح ڈکیتی اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث افغان باشندوں کو ملک بدر کرنا شروع کر دیا ہے۔ جرمن وزارت داخلہ کے مطابق، یہ اقدام جرمنی میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

جرمنی میں ملک بدری کے اعداد و شمار
جرمن وزارتِ داخلہ نے واضح کیا ہے کہ وہ تمام پناہ گزین جو سنگین جرائم میں ملوث پائے جائیں گے، انہیں کسی رعایت کے بغیر ڈی پورٹ کیا جا رہا ہے۔ عالمی جریدوں اور افغان میڈیا کے مطابق:

تاریخی تناظر: 2018 سے اب تک 220 سے زائد ایسے افغان پناہ گزینوں کو بے دخل کیا گیا جو جرائم میں ملوث تھے۔

حالیہ سال: سال 2024 میں 28 افغان باشندوں کو ملک بدر کیا گیا، جبکہ 2025 میں یہ تعداد بڑھ کر 81 تک پہنچ گئی ہے۔

ایران سے بڑے پیمانے پر انخلاء
دوسری جانب، اقوامِ متحدہ (UN) کی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صرف جرمنی ہی نہیں بلکہ خطے کے ممالک بھی افغان شہریوں کی واپسی کے عمل میں تیزی لا رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق:

سال 2025 کے دوران ایران نے لاکھوں کی تعداد میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کو سرحد پار واپس بھیج دیا ہے۔

سیاسی و انسانی پہلو
جرمنی کی جانب سے یہ ملک بدری ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب یورپ بھر میں پناہ گزینوں سے متعلق قوانین کو سخت کیا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اس عمل پر تشویش کا اظہار کر رہی ہیں، تاہم جرمن حکومت کا موقف ہے کہ عوامی تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور جرائم پیشہ افراد کو پناہ نہیں دی جائے گی۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button