تازہ تریندنیا

سکھ فار جسٹس کا بھارت میں عیسائیوں کے لیے علیحدہ وطن ‘ٹرمپ لینڈ’ کا مطالبہ، نقشہ جاری

نیویارک / نئی دہلی: بھارت میں سکھوں کی علیحدگی پسند تنظیم ‘سکھ فار جسٹس’ (SFJ) نے شمال مشرقی بھارت میں عیسائی برادری کے لیے ایک محفوظ اور آزاد ریاست ”ٹرمپ لینڈ” کا مطالبہ کر دیا ہے۔ تنظیم نے اس مجوزہ وطن کا نقشہ جاری کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اس معاملے میں مداخلت کی اپیل کی ہے۔

‘ٹرمپ لینڈ’ کا تصور اور جغرافیہ
سکھ فار جسٹس کے رہنما گرپتونت سنگھ پنوں نے تجویز پیش کی ہے کہ یہ نیا وطن امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کے نام سے منسوب کیا جائے۔

مقام: یہ ریاست بھارت کی ‘سیون سسٹر اسٹیٹس’ (ناگالینڈ، میزورم، میگھالیہ، منی پور، تریپورہ اور آسام) پر مشتمل ہوگی۔

مقصد: اسے ایک ‘محفوظ عیسائی کوریڈور’ کے طور پر پیش کیا گیا ہے تاکہ لاکھوں عیسائیوں کو بھارتی مظالم سے پناہ مل سکے۔

بھارت میں عیسائیوں پر مظالم کا دعویٰ
گرپتونت سنگھ پنوں نے بھارتی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ:

جب پوری دنیا کرسمس منا رہی تھی، بھارت میں عیسائی برادری منظم تشدد اور جبر کا شکار تھی۔

مودی دور میں بائبل کی تبلیغ کو جرم سمجھا جا رہا ہے، گرجا گھر نذرِ آتش کیے جا رہے ہیں اور عیسائی بستیوں پر حملے روز کا معمول بن چکے ہیں۔

انہوں نے آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہندوتوا نظریے کے تحت اقلیتوں سے زبردستی رام کو خدا ماننے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

امریکی مداخلت کی اپیل
سکھ فار جسٹس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ واحد عالمی رہنما ہیں جو اس صورتحال میں مداخلت کی جرات اور اختیار رکھتے ہیں۔ پنوں کا موقف ہے کہ:

"ایک آزاد خالصتان اور ایک محفوظ عیسائی وطن ‘ٹرمپ لینڈ’ مستقبل میں جنوبی ایشیا میں امریکہ کے سب سے مضبوط اور وفادار اتحادی ثابت ہو سکتے ہیں۔”

خالصتان ریفرنڈم اور بھارتی ردعمل
واضح رہے کہ سکھ فار جسٹس پہلے ہی دنیا بھر میں ‘عالمی خالصتان ریفرنڈم’ کا انعقاد کر رہی ہے، جسے مودی حکومت نے غیر قانونی قرار دے کر تنظیم پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ تنظیم نے اقوامِ متحدہ کے ‘حقِ خود ارادیت’ کے اصول کے تحت امریکی انتظامیہ سے اس جمہوری عمل کی حمایت کا مطالبہ کیا ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button