اہم خبریںپاکستاندنیا

پی ٹی آئی کی برطانیہ میں پاکستانی اداروں کیخلاف ہرزہ سرائی، پاکستان کے زبانی ڈی مارش پر برطانوی ہائی کمیشن کا ردعمل آگیا

اسلام آباد / لندن: برطانوی شہر بریڈ فورڈ میں پاکستانی قونصلیٹ کے باہر ہونے والے احتجاج اور قومی اداروں کے خلاف پرُتشدد دھمکیوں پر پاکستان اور برطانیہ کے درمیان سفارتی تناؤ میں اضافہ ہو گیا ہے۔ پاکستان نے اس معاملے پر برطانوی سفارتکار کو طلب کر کے اپنا سخت احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔

پاکستان کا احتجاج اور ‘زبانی ڈی مارش’
دفتر خارجہ پاکستان نے برطانوی ڈپٹی ہیڈ آف مشن کو طلب کیا اور بریڈ فورڈ میں ہونے والے مظاہرے کے دوران دی جانے والی دھمکیوں اور ہرزہ سرائی پر زبانی ڈی مارش (Oral Demarche) کیا۔

پاکستانی موقف: پاکستان نے موقف اپنایا کہ مظاہرین کی جانب سے اشتعال انگیز اور نامناسب گفتگو کے باوجود برطانوی حکام نے ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا۔

اعلیٰ قیادت کی عدم موجودگی: ذرائع کے مطابق، برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ اس وقت ملک میں موجود نہیں ہیں، جس کی وجہ سے ڈپٹی ہیڈ آف مشن کو طلب کیا گیا۔

برطانوی ہائی کمیشن کا جواب: ‘شواہد فراہم کیے جائیں’
پاکستانی احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے برطانوی ہائی کمیشن کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ برطانیہ کا قانونی نظام حکومت سے آزاد ہے۔ ترجمان کے بیان کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

آزادانہ نظام: برطانیہ میں پولیس اور پراسیکیوٹرز کسی بھی سیاسی دباؤ کے بغیر آزادانہ طور پر کام کرتے ہیں۔

شواہد کی فراہمی: اگر کوئی ملک یہ سمجھتا ہے کہ برطانوی سرزمین پر کوئی جرم سرزد ہوا ہے، تو اسے چاہیے کہ وہ تمام متعلقہ شواہد فراہم کرے۔

پولیس رابطہ افسر: یہ مواد برطانیہ میں موجود ‘پولیس رابطہ افسر’ (Police Liaison Officer) کو جمع کرایا جانا چاہیے۔

فوجداری تحقیقات: برطانوی پولیس قانون کی خلاف ورزی پر مبنی مواد کا جائزہ لے گی، اور اگر جرم ثابت ہوا تو فوجداری تحقیقات کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔

تنازع کا پس منظر
یہ سفارتی احتجاج اس وقت سامنے آیا جب بریڈ فورڈ میں پی ٹی آئی کے حامیوں کے احتجاج کے دوران مبینہ طور پر پاکستانی عسکری قیادت کے خلاف سخت زبان استعمال کی گئی اور دھمکیاں دی گئیں۔ پاکستان اسے دہشت گردی پر اکسانے کا معاملہ قرار دے رہا ہے جبکہ برطانیہ اسے اپنے قانونی ڈھانچے کے تحت دیکھنے پر زور دے رہا ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button