اسلام آباد/واشنگٹن (نیوز ڈیسک): افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد وہاں رہ جانے والا جدید ترین فوجی سازوسامان اب دہشت گرد گروہوں کے ہاتھ لگ چکا ہے، جو نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے ایک سنگین چیلنج بن کر ابھرا ہے۔
7 ارب ڈالر کا اسلحہ اور دہشت گردی کے شواہد
امریکی جریدے ‘دی جیو پالیٹکس’ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق:
افغانستان میں چھوڑے گئے امریکی ہتھیاروں کی مالیت 7 ارب ڈالر سے زائد ہے۔
ان ہتھیاروں میں خودکار M4 اور M16 رائفلیں، جدید نائٹ ویژن ڈیوائسز اور دیگر فوجی سازوسامان شامل ہے۔
یہ جدید آلات اس وقت دہشت گرد عناصر، بالخصوص فتنہ الخوارج (TTP) کی دسترس میں ہیں، جو انہیں پاکستان میں سیکیورٹی فورسز اور معصوم شہریوں کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔
افغان بلیک مارکیٹ اور دہشت گردوں کی رسائی
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ طالبان دورِ حکومت میں یہ امریکی ہتھیار افغانستان کی بلیک مارکیٹ میں کھلے عام فروخت ہو رہے ہیں۔ مختلف دہشت گرد نیٹ ورکس ان منڈیوں سے آسانی سے جدید ترین ٹیکنالوجی خرید کر اپنی کارروائیوں میں شدت پیدا کر رہے ہیں۔
پاکستان کا مؤقف اور شواہد
پاکستان کی جانب سے مسلسل عالمی برادری کے سامنے یہ مؤقف رکھا گیا ہے کہ:
خیبرپختونخوا اور دیگر علاقوں میں ہونے والے حملوں میں جدید امریکی ساختہ اسلحہ استعمال کیا جا رہا ہے۔
پاکستان نے سرحد پار حملوں میں اس اسلحے کے استعمال کے ٹھوس شواہد بھی پیش کیے ہیں۔
افغان طالبان کی مبینہ سرپرستی میں ان ہتھیاروں کا ہمسایہ ممالک کے خلاف استعمال خطے کے استحکام کے لیے سوالیہ نشان بن چکا ہے۔
سیکیورٹی ماہرین کی تشویش
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ نائٹ ویژن ڈیوائسز اور طویل فاصلے تک مار کرنے والی رائفلوں کی وجہ سے دہشت گردوں کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے اب نئی دفاعی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔






