تل ابیب: اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زمیر نے ایک مرتبہ پھر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج کسی بھی وقت اپنے دشمنوں کے خلاف کارروائی کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے اور ضرورت پڑنے پر حملے سے گریز نہیں کیا جائے گا۔
اپنے حالیہ بیان میں اسرائیلی آرمی چیف نے کہا کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے ساتھ شروع ہونے والی جنگ وقت کے ساتھ وسیع ہوتی چلی گئی، جس میں یمن اور ایران سمیت دیگر فریق بھی شامل ہوتے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل جہاں اور جب ضروری سمجھے گا، دشمن کے خلاف کارروائی کرے گا۔
ایال زمیر نے ایران پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ تہران اسرائیل مخالف عناصر کو مالی اور عسکری معاونت فراہم کرتا رہا ہے اور اسرائیل کو نقصان پہنچانے کی سازشوں کے پیچھے بھی ایران کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل اپنی سلامتی اور دفاع کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو واشنگٹن کے متوقع دورے کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران پر ممکنہ نئے حملوں کے حوالے سے تبادلہ خیال کر سکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیل کو اس بات پر شدید تشویش لاحق ہے کہ ایران اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام کی دوبارہ تعمیر اور توسیع میں مصروف ہے، جسے اسرائیلی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔
سیاسی و عسکری مبصرین کے مطابق اسرائیلی قیادت کے حالیہ بیانات خطے میں کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بن سکتے ہیں، جبکہ آنے والے دنوں میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال مزید حساس ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔






