فضل الرحمان کا 22 دسمبر کو کراچی میں آل پارٹیز کانفرنس کرنےکااعلان
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان نے نام نہاد غیر اسلامی قانون سازی کے خلاف 22 دسمبر کو کراچی میں آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بلانے کا اعلان کر دیا ہے۔
چکوال میں مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملک میں غیر اسلامی قوانین کے خلاف 22 تاریخ کو مختلف مکاتبِ فکر کے علما اکٹھے ہو رہے ہیں، جبکہ اسی روز کراچی میں آل پارٹیز کانفرنس بھی منعقد کی جائے گی۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ انہوں نے 26ویں آئینی ترمیم کی حمایت کے لیے حکومت کے ساتھ طویل مذاکرات کیے اور اپنی شرائط منوائیں، جس کے بعد یہ ترمیم مفاہمت کے ساتھ اسمبلی میں پیش کی گئی۔ تاہم 27ویں آئینی ترمیم کو ان کی حمایت کے بغیر ہی دو تہائی اکثریت سے منظور کیا گیا، جس پر تحفظات موجود ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ہم نے آئین پر حلف اٹھایا ہے اور غیر اسلامی قانون سازی کسی صورت قبول نہیں کی جا سکتی۔ آئین ایک قومی میثاق ہے۔ مولانا فضل الرحمان کے مطابق حالیہ قانون سازی، جن میں 18 سال سے کم عمر کی شادی کے خلاف قانون، گھریلو تشدد کے خلاف قانون اور جنس کی تبدیلی سے متعلق قوانین شامل ہیں، قرآن و سنت کے منافی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون سازی کے دوران اقوامِ متحدہ کے منشور اور اس کے اغراض و مقاصد کی پیروی واضح نظر آتی ہے۔
اٹھائیسویں آئینی ترمیم اور نئے صوبوں کے قیام سے متعلق سوال پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اصولی بات اور عملی حقیقت میں فرق ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ فاٹا کے انضمام کی ابتدا سے مخالفت کرتے رہے اور اس کے ممکنہ نقصانات سے بھی آگاہ کیا تھا۔ آج وہی عناصر اعتراف کر رہے ہیں کہ فاٹا کا انضمام ایک غلط فیصلہ تھا، جبکہ اب صوبوں کی تقسیم کی باتیں ہو رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ طاقت کی بنیاد پر فاٹا کا انضمام کیا گیا، جس کے نتیجے میں مسلح گروہوں نے علاقے پر قبضہ کر لیا، ریاست کی رٹ ختم ہو گئی اور اب ان علاقوں کو خالی کرانے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔
افغان پالیسی اور دہشت گردی کے حوالے سے مولانا فضل الرحمان نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 78 برسوں میں پاکستان کی نہ افغان پالیسی درست رہی اور نہ ہی دہشت گردی سے متعلق حکمت عملی کامیاب ہو سکی۔
بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتیں نہ کروانے کے معاملے پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وہ یہ سوال بھی اٹھائیں گے کہ ملاقاتوں سے کیوں روکا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ نہ سیاستدانوں کی گرفتاری کے حق میں ہیں اور نہ ہی ملاقاتوں پر پابندی کے۔
سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عدالت نے زنا بالجبر کے ایک کیس میں 20 سالہ سزا کو کم کر کے 5 سال کر دیا اور اسے زنا بالجبر کے بجائے زنا بالرضا قرار دیا، جو مشرف دور میں متعارف کروائی گئی تقسیم ہے اور قرآن و سنت کی تعلیمات کے خلاف ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج صورتحال یہ ہے کہ زنا جیسے معاملات میں سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں جبکہ جائز نکاح میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں، جو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے تصور کی نفی ہے۔
سوالات کے جواب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آرمی چیف نے جو نیا اسٹیٹس لیا ہے اور جس مستقبل کا آغاز کیا ہے، اگر اس کا آغاز علماء کے اجتماع سے کیا گیا ہے تو اسے اچھے گمان کے ساتھ دیکھا جانا چاہیے۔






