اہم خبریںدنیا

آپریشن طوفانِ اقصیٰ اور غزہ جنگ کے 2 سال مکمل، تباہی کی داستان اور انسانیت کی دہائی

ویب ڈیسک: 7 اکتوبر 2023 کو شروع ہونے والے "طوفان الاقصیٰ” آپریشن اور اس کے بعد غزہ پر مسلط کی گئی اسرائیلی جنگ کو آج دو سال مکمل ہو چکے ہیں۔ یہ دو سال دنیا کے لیے سفارتی بے بسی، فلسطینیوں کے لیے ایک انسانی المیہ، اور خطے کے لیے غیر یقینی اور عدم استحکام کا دور ثابت ہوئے۔

انسانی جانوں کا بے رحم نقصان

فلسطینی ذرائع کے مطابق، اسرائیلی کارروائیوں میں اب تک 67,000 سے زائد افراد شہید اور 1,70,000 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
اسی دوران، 20 لاکھ کے قریب افراد اسرائیلی ناکہ بندی اور مسلسل بمباری کے باعث فاقہ کشی کا شکار ہیں۔

اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق، اب تک 1,152 اسرائیلی فوجی اس جنگ میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

غزہ: ایک کھنڈر میں بدلتا شہر

اسرائیلی بمباری نے غزہ کو تقریباً مکمل طور پر کھنڈر میں تبدیل کر دیا ہے۔

اسپتال، مساجد، گرجا گھر، اسکولز، کالجز اور دیگر تعلیمی ادارے تباہ کر دیے گئے۔

سویلین انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے سے لاکھوں فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں۔

جنگ کی وسعت: خطے کے دیگر ممالک بھی نشانے پر

اسرائیلی فوج نے اس دوران ایران، قطر، لبنان، شام اور یمن پر بھی فضائی حملے کیے، جس سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔

قیدیوں کا مسئلہ

دو سال کی مسلسل جنگ اور عالمی دباؤ کے باوجود اسرائیل حماس کی قید میں موجود 48 اسرائیلی قیدیوں کو رہا نہیں کرا سکا۔
ان میں سے صرف 20 کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اب بھی زندہ ہیں۔
یاد رہے کہ اکتوبر 2023 کے حملے میں 1,219 افراد ہلاک اور 251 اسرائیلی گرفتار کیے گئے تھے۔

دنیا بھر میں احتجاج اور جنگ بندی کے مطالبات

جنگ کے خلاف اور غزہ میں فوری جنگ بندی کے لیے دنیا بھر میں احتجاج اور مظاہرے جاری ہیں۔ مغربی دارالحکومتوں میں عوام کی ایک بڑی تعداد فلسطینیوں کے حق میں آواز بلند کر رہی ہے، تاہم عالمی طاقتیں تاحال مستقل جنگ بندی کے لیے کوئی فیصلہ کن اقدام کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

نتیجہ:

دو سال بعد بھی جنگ نہ صرف جاری ہے بلکہ اس کا دائرہ اور اثرات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ فلسطینی عوام ایک شدید انسانی بحران کا سامنا کر رہے ہیں، جب کہ اسرائیل اپنے مطلوبہ اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کی خاموشی اس جنگ کو مزید طوالت دینے کا سبب بن رہی ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button