غزہ: جنگ سے تباہ حال غزہ میں شدید سردی، موسلا دھار بارشوں اور طوفانی موسم نے پہلے سے جاری انسانی بحران کو مزید خطرناک بنا دیا ہے۔ ہزاروں بے گھر فلسطینی خاندان کھلے آسمان تلے یا خیموں میں رہنے پر مجبور ہیں، جہاں بنیادی سہولیات کا شدید فقدان ہے۔
رپورٹس کے مطابق خیموں میں رہائش پذیر خاندانوں کو مناسب پناہ، گرم کپڑوں، خوراک اور طبی سہولتوں کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ ان کٹھن حالات میں سب سے زیادہ خطرہ بچوں کو لاحق ہے، جن میں نومولود اور کم عمر بچے سردی اور بیماریوں کے باعث جان سے ہاتھ دھونے کے خدشے سے دوچار ہیں۔
اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے یونیسف نے غزہ میں بچوں کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یونیسف نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر موسمِ سرما سے بچاؤ کے اقدامات نہ کیے گئے تو نومولود اور کم سن بچوں کی اموات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
یونیسف کا کہنا ہے کہ شدید سردی، بارش اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی بچوں کی زندگیوں کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے، اور عالمی برادری سے فوری انسانی امداد اور تحفظ کے اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق غزہ میں موجودہ حالات ایک بڑے انسانی المیے کی شکل اختیار کر چکے ہیں، جہاں موسم کی شدت نے جنگ کے زخموں کو مزید گہرا کر دیا ہے۔






