اہم خبریںدنیا

چین کا دوٹوک مؤقف: ایران پر پابندیاں نہیں، پرامن حل چاہتے ہیں

بیجنگ (بین الاقوامی رپورٹ) — چین نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ میں ایران کے خلاف پابندیوں کی حمایت نہیں کرتا اور اس حساس معاملے کے حل کے لیے سیاسی و سفارتی راستہ اپنانے پر زور دیتا ہے۔

چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے معاملے کو مزید پیچیدہ بنانے کی بجائے اس کا پرامن اور متوازن حل تلاش کیا جانا چاہیے۔

"پابندیاں اعتماد کو نقصان پہنچاتی ہیں”
یورپی ممالک کی جانب سے اگست تک ایران پر نئی پابندیاں عائد کرنے کی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے چینی ترجمان نے کہا:

"چین اقوام متحدہ میں ایران کے خلاف پابندیوں کے حق میں نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس مسئلے کا حل سیاسی و سفارتی ذرائع سے نکالا جانا چاہیے، کیونکہ پابندیاں صرف فریقین کے درمیان اعتماد کو متاثر کرتی ہیں اور یہ کسی بھی تعمیری عمل کے لیے نقصان دہ ہوتی ہیں۔”

امن، استحکام اور ایٹمی عدم پھیلاؤ کی حمایت
چینی ترجمان نے مزید کہا کہ بیجنگ حکومت خطے میں امن و استحکام اور ایٹمی عدم پھیلاؤ کے اصولوں کی حمایت جاری رکھے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام متعلقہ فریقوں کو چاہیے کہ وہ کشیدگی بڑھانے کی بجائے بات چیت کا راستہ اپنائیں۔

پس منظر
ایران کے ایٹمی پروگرام پر ایک بار پھر عالمی سطح پر تشویش بڑھ رہی ہے، اور یورپی یونین سمیت بعض مغربی ممالک پابندیوں کی بحالی کی بات کر رہے ہیں۔ تاہم چین سمیت کچھ بڑے ممالک، خصوصاً عالمی سلامتی کونسل کے مستقل رکن، اس مسئلے کو مزید بگاڑنے کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دے رہے ہیں۔

کیا چین کا موقف توازن لا سکے گا؟
چین کا یہ دوٹوک موقف بین الاقوامی سفارتی ماحول میں توازن اور اعتدال کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ دیگر عالمی طاقتیں چین کے اس مؤقف کا کس طرح جواب دیتی ہیں اور ایران کے ساتھ کس نوعیت کی سفارت کاری کو آگے بڑھایا جاتا ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button