برطانیہ کا تعلیمی نظام دنیا بھر میں معیار، تحقیق اور تنوع کے باعث منفرد مقام رکھتا ہے، تاہم حالیہ برسوں میں پاکستانی اور بنگلہ دیشی طلبا کی بڑھتی ہوئی اسائلم درخواستوں نے برطانوی حکومت اور جامعات کو سخت اقدامات پر مجبور کر دیا ہے۔
بریگزٹ کے بعد برطانیہ نے تعلیمی ویزوں میں نرمی کرتے ہوئے دنیا بھر کے طلبا کے لیے دروازے کھول دیے تھے۔ ایک سالہ تعلیم کے بعد دو سال قیام اور نوکری کی تلاش کا موقع، ساتھ ہی ہفتہ وار بیس گھنٹے کام کی اجازت نے ہزاروں نوجوانوں کو اس ملک کی طرف راغب کیا۔ ساؤتھ ایشیا سے خصوصاً پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے لاکھوں طلبا نے چند سالوں میں برطانیہ کا رخ کیا، جن میں سب سے زیادہ تعداد بھارتی طلبا کی رہی۔
تاہم صورتِ حال اس وقت پیچیدہ ہوگئی جب 2024–25 میں پانچ ہزار سے زائد پاکستانی طلبا اور گیارہ ہزار سے زیادہ پاکستانی باشندوں نے برطانیہ میں سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کر دیں۔ تعلیمی ویزا کو اسائلم تک رسائی کے راستے کے طور پر استعمال کیے جانے کے اس بڑھتے ہوئے رجحان نے برطانوی امیگریشن حکام کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اب تک 9 سے زائد برطانوی جامعات نے پاکستان اور بنگلہ دیش سے طلبا کے داخلے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ دیگر جامعات کے لیے ہوم آفس نے داخلہ کوٹہ 10 فیصد سے کم کرکے 5 فیصد سے بھی نیچے لانے کی ہدایت جاری کی ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں جامعات کے لائسنس منسوخ کیے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
برطانیہ کی وزیر برائے داخلہ شبانہ محمود—جن کا تعلق بھی جنوبی ایشیا سے ہے—اسائلم کے غلط استعمال کے خلاف پہلے ہی سخت اقدام کا اعلان کر چکی ہیں۔ وہ اس بات سے آگاہ ہیں کہ بہت سے طلبا تعلیم مکمل کرتے ہی ملازمت نہ ملنے پر واپس جانے کے بجائے سیاسی پناہ کی درخواست دینے کو ترجیح دیتے ہیں، جس سے سسٹم پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
برطانوی حکومت کے مطابق پریشانی کی اصل وجہ طلبا کا رویہ ہے:
کلاسوں میں کم حاضری
بروقت فیس ادا نہ کرنا
تعلیمی قوانین کی خلاف ورزیاں
اور تعلیم کو محض ویزا کے حصول کا ذریعہ بنانا
ان عوامل کے سبب جامعات بھی اب سخت پالیسیاں اپنا رہی ہیں۔
برطانیہ میں تعلیم حاصل کرنا پاکستانی مڈل کلاس کے نوجوانوں کا خواب ضرور ہے، مگر بلند فیسیں، ٹیکسز، اور رہائش کے اخراجات طالب علم پر بھاری بوجھ بن جاتے ہیں۔ بہت سے طلبا یہ سمجھتے ہیں کہ وطن لوٹ کر قرض اتارنا ممکن نہیں، اس لیے وہ بہتر مستقبل کے لیے اسائلم کو آخری راستہ سمجھتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ بحران وقتی ہو سکتا ہے، لیکن جب تک اس رجحان پر قابو نہیں پایا جاتا، پاکستانی طلبا کے لیے برطانیہ کے دروازے محدود ہی رہیں گے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر چند طلبا غیر ذمہ دارانہ اقدامات سے باز نہ آئے تو حقیقی مقصد یعنی حصولِ تعلیم کے لیے آنے والے ہزاروں نوجوان بھی متاثر ہوں گے۔
اس کے باوجود برطانیہ کا تعلیمی ماحول، نظم و ضبط، کام کی اہمیت اور مہارتوں کے مواقع دنیا بھر کے طلبا کے لیے غیر معمولی حیثیت رکھتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ دونوں ممالک کو مل کر ایسا نظام تشکیل دینا ہوگا جس سے نہ صرف غلط استعمال رک سکے بلکہ تعلیم کے اصل مقصد کو بھی فروغ مل سکے اور اس کے سفارتی و تعلیمی روابط برقرار رہیں۔






