اہم خبریںتازہ تریندنیا

برطانیہ : خواتین پولیس اہلکاروں کے لیے خصوصی حجاب متعارف

لندن:
برطانیہ میں مسلم خواتین پولیس اہلکاروں کے لیے ایک نیا، محفوظ اور جدید طرز کا مقناطیسی حجاب متعارف کرایا گیا ہے، جس کا مقصد دورانِ ڈیوٹی حجاب پہننے والی افسران کو بہتر تحفظ فراہم کرنا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق نیا حجاب “کویِک ریلیز سسٹم” کے ساتھ تیار کیا گیا ہے، جو کھینچا تانی، جھگڑے یا ہنگامی صورتحال میں خود بخود الگ ہو جاتا ہے، تاکہ خاتون اہلکار کے گلے یا سر کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ اس ڈیزائن کے ذریعے پردے کا اہتمام بھی برقرار رہتا ہے جبکہ سیکیورٹی میں اضافہ بھی کیا گیا ہے۔

یہ جدید حجاب ڈی مونٹ فورٹ یونیورسٹی اور لیسٹرشائر پولیس کے اشتراک سے تیار کیا گیا ہے۔ ڈیزائنرز نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ اگر تیزی سے کھینچنے یا پکڑنے کی کوشش کی جائے تو حجاب کا نچلا حصہ فوراً الگ ہو جائے، تاکہ افسر محفوظ رہے۔

نوجوان مسلمان پولیس آفیسر پی سی سحر ناز نے اس نئے حجاب کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے پہن کر وہ خود کو “فخریہ اور بااختیار” محسوس کرتی ہیں، کیونکہ یہ ان کی مذہبی شناخت کے ساتھ ساتھ پیشہ ورانہ ضروریات کو بھی پورا کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق برطانیہ کی مختلف پولیس فورسز کے علاوہ این ایچ ایس ٹرسٹس، پیرا میڈکل ادارے اور کئی نجی تنظیمیں بھی اس نئے حفاظتی حجاب میں دلچسپی ظاہر کر رہی ہیں۔

خیال رہے کہ پولیس فورسز میں حجاب کا تصور نیا نہیں۔ اس سے قبل 2020 میں نارتھ یارکشائر پولیس نے دو حصوں پر مشتمل حفاظتی حجاب متعارف کرایا تھا اور نیوزی لینڈ پولیس کا آپریشنل حجاب بھی 2021 میں لیسٹرشائر میں آزمایا گیا تھا۔

نئے حجاب کی متعارف کرائے جانے سے توقع ہے کہ مزید مسلم خواتین پولیس فورس میں شمولیت کے لیے خود کو زیادہ محفوظ اور پراعتماد محسوس کریں گی۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button