ابوظبی: سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دورۂ ابوظبی نے امریکا اور متحدہ عرب امارات کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور ٹیکنالوجی تعلقات کو نئی جہت دے دی ہے۔ ابوظبی پہنچنے پر صدر ٹرمپ کا شاندار استقبال کیا گیا، جہاں یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے ان کا گرمجوشی سے خیرمقدم کیا۔
صدارتی محل میں روایتی قبائلی دستے کی گارڈ آف آنر تقریب کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان اہم ملاقات ہوئی جس میں دوطرفہ تعلقات، سرمایہ کاری اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
آرٹیفیشل انٹیلی جنس میں تاریخی تعاون کا آغاز
اس دورے کی خاص بات یہ رہی کہ امریکا اور یو اے ای کے درمیان آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) شراکت داری کا باضابطہ آغاز کیا گیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت یو اے ای میں جدید ڈیٹا سینٹرز قائم کیے جائیں گے، جنہیں امریکی ٹیکنالوجی کمپنیاں آپریٹ کریں گی۔ یہ منصوبہ نہ صرف خطے میں ڈیجیٹل ترقی کو فروغ دے گا بلکہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو بھی مزید مضبوط کرے گا۔
یو اے ای کے صدر نے اس موقع پر کہا:
"ہم امریکا کے ساتھ اپنے دوستانہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے خواہاں ہیں، اور AI جیسے شعبوں میں تعاون مستقبل کی معیشت کی بنیاد رکھے گا۔”
ثقافتی روابط: شیخ زاید مسجد کا دورہ
صدر ٹرمپ نے ابوظبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد کے ہمراہ شیخ زاید مسجد کا دورہ بھی کیا، جو امارات کے ثقافتی ورثے اور بین المذاہب ہم آہنگی کی علامت ہے۔ اس دورے کو دونوں ممالک کے عوام کے درمیان قریبی تعلقات کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
خلیجی ممالک میں سرمایہ کاری اور دفاعی معاہدے
صدر ٹرمپ کا یہ دورہ ان کے خلیج میں جاری سفارتی مشن کا حصہ ہے۔ اس سے قبل انہوں نے سعودی عرب اور قطر کا دورہ کیا، جہاں امریکا نے بالترتیب 142 ارب ڈالر اور 200 ارب ڈالر کے دفاعی اور تجارتی معاہدوں پر دستخط کیے۔ قطر کے ساتھ معاہدوں میں 160 امریکی طیارے اور MQ-9B ڈرونز کی فروخت شامل ہے۔
ٹرمپ نے یو اے ای کی جانب سے امریکا میں جاری کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کو بھی سراہا اور کہا کہ:
"یہ دوستی اور اعتماد کی علامت ہے جو دونوں ممالک کے درمیان دیرپا اقتصادی ترقی کا سبب بنے گی۔”






