ٹوکیو: جاپان کی حکومت نے ملک میں مقیم مسلمانوں کو تدفین کے لیے نئی زمین الاٹ کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے، جس کے بعد جاپان میں بسنے والے مسلمانوں کو اپنے پیاروں کی تدفین کے لیے متبادل راستے اختیار کرنا ہوں گے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں پہلے ہی زمین کی شدید کمی ہے، جبکہ بڑے شہروں میں آبادی کے بڑھتے دباؤ نے مزید مشکلات پیدا کر دی ہیں، جس کے باعث نئی قبرستانی زمین الاٹ کرنا ممکن نہیں۔
جاپان میں تقریباً دو لاکھ مسلمان مقیم ہیں، جن کی تعداد ہر سال بڑھ رہی ہے۔ ان میں زیادہ تر مہاجر مزدور ہیں جو ٹیکنالوجی، تجارت اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ تاہم تدفین کے معاملے میں انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہوتا ہے کیونکہ ملک میں قبرستانوں کی جگہ نہایت محدود ہے۔
جاپان میں روایتی طور پر لاشوں کو جلانے (cremation) کا رواج ہے، جبکہ مسلمان تدفین کو لازم سمجھتے ہیں، جس کے لیے قبر کی جگہ درکار ہوتی ہے۔ حکومتی پالیسی کے مطابق مسلمانوں کو نئی قبرستانی زمین نہیں دی جائے گی اور انہیں مشورہ دیا گیا ہے کہ میتوں کو فضائی راستے سے اپنے آبائی ممالک بھیجا جائے۔
ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ جاپان میں مقیم غریب مسلم خاندانوں کے لیے شدید مشکلات پیدا کرے گا کیونکہ بیرون ملک میت بھیجنے کے اخراجات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔
واضح رہے کہ جاپان میں بزرگ آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے ملک کے قبرستانوں پر پہلے ہی دباؤ ہے، جبکہ ٹوکیو اور اوساکا جیسے شہروں میں زمین کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرتی ہیں۔






