تہران / واشنگٹن – ایران نے اشارہ دیا ہے کہ اگر امریکا سنجیدگی اور نیک نیتی کا مظاہرہ کرے تو جوہری معاملات اور علاقائی تنازعات پر سفارتی بات چیت بحال کی جا سکتی ہے، جو خطے میں امن و استحکام کی طرف ایک مثبت پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ: سفارتکاری کا دروازہ بند نہیں ہوا
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا:
"اگر وائٹ ہاؤس دھوکہ دہی کی روش ترک کر دے اور خلوص نیت کے ساتھ آگے بڑھے تو ہم سفارتکاری کے راستے پر دوبارہ آ سکتے ہیں۔”
غیر مستقیم رابطے جاری، علاقائی ممالک کا کردار اہم
ترجمان نے بتایا کہ براہ راست رابطہ نہ ہونے کے باوجود قطر اور دیگر ثالث ممالک کے ذریعے بالواسطہ بات چیت جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا:
"سفارتکاری کبھی بند نہیں ہوتی، ہم بات چیت کے لیے دروازے بند نہیں کرتے۔”
یہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطے میں تناؤ کے باوجود دونوں فریقین کے درمیان مکالمے کی گنجائش باقی ہے۔
امریکی حملے پر تحفظات، عالمی قانون کی بات
ایران نے 22 جون کو امریکا کی جانب سے ہونے والے حملے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ:
"یہ حملہ بین الاقوامی قانون اور ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے کی خلاف ورزی تھا۔”
ایران کا کہنا ہے کہ پائیدار امن کے لیے تمام فریقین کو قانون، باہمی احترام اور خلوص نیت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
خلاصہ:
ایران نے امریکا سے مذاکرات کے لیے نیک نیتی کو شرط قرار دیا
براہ راست رابطے نہیں، مگر سفارتکاری جاری
قطر سمیت دیگر ممالک کا مصالحانہ کردار جاری





