اسلام آباد اور راولپنڈی میں پی ٹی آئی کا آج احتجاج کا اعلان، دفعہ 144 نافذ ہونے کے باوجود ریلی کی تیاری
پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے بانی عمران خان سے جیل میں ملاقاتوں پر پابندی کے خلاف آج اسلام آباد ہائی کورٹ اور اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کرے گی۔ پارٹی قیادت کا کہنا ہے کہ عمران خان سے پارٹی رہنماؤں اور ان کے اہلِ خانہ کو ملاقات کی اجازت نہ دینا بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
احتجاج کا اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب جڑواں شہروں میں عوامی اجتماعات پہلے ہی ممنوع ہیں۔ اسلام آباد میں 18 نومبر سے دفعہ 144 نافذ ہے جو 18 جنوری 2026 تک برقرار رہے گی، جبکہ راولپنڈی میں بھی تین روزہ پابندی کا نوٹیفکیشن جاری ہے۔ اس قانون کے تحت پانچ یا اس سے زیادہ افراد کے اجتماع، جلسے یا ریلی نکالنے پر پابندی ہوتی ہے۔
پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر کے مطابق سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اپوزیشن ارکان پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر احتجاج کریں گے اور بعد ازاں ریلی کی صورت میں اڈیالہ جیل کا رخ کریں گے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ عدالتِ عالیہ اپنا حکم نافذ کرانے میں ناکام رہی ہے اور جیل انتظامیہ عدالتی احکامات کے باوجود عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دے رہی۔
گزشتہ ہفتے خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی بھی ملاقات نہ ہونے پر اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کر چکے ہیں۔ عمران خان کے اہلِ خانہ کو بھی کئی ہفتوں سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، جس کے باعث ان کی صحت سے متعلق خدشات سامنے آئے۔ تاہم سرکاری حکام اور پی ٹی آئی ذرائع دونوں کا کہنا ہے کہ عمران خان خیریت سے ہیں۔
اسد قیصر نے یہ بھی بتایا کہ وہ منگل کو کوئٹہ کے جلسے میں شریک ہوں گے جبکہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں احتجاج کی قیادت بیرسٹر گوہر علی خان اور دیگر رہنما کریں گے۔ اپوزیشن کی پارلیمانی کمیٹی عمران خان کی فوری رہائی کا بھی مطالبہ کر رہی ہے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے سینیٹ اجلاس میں کہا کہ سرکاری گاڑیوں پر پارٹی جھنڈے لگا کر اسلام آباد پر حملہ کرنا غیر آئینی عمل ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک اور جمہوریت سب کی غلطیوں سے متاثر ہوئے ہیں، اس لیے مسائل کا حل دھمکیوں کے بجائے مذاکرات میں ہے۔






