پی ٹی آئی کے کارکن احتجاج کے لیے کیوں نہیں نکل رہے؟
اڈیالہ جیل کے باہر گزشتہ دنوں کے دھرنوں اور احتجاج کے دوران کارکنان کی کم تعداد نے سیاسی حلقوں میں کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ احتجاج کے مقامات پر اکثر صرف عمران خان کی بہنیں اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی ہی نمایاں نظر آتے ہیں، جب کہ کارکنان یا مرکزی قیادت کی موجودگی محدود رہی۔
پارٹی نے کارکنان کو ابھی کال ہی نہیں دی، لطیف کھوسہ
پی ٹی آئی رہنما لطیف کھوسہ نے وی نیوز سے گفتگو میں کہا کہ پارٹی نے کارکنان کو اڈیالہ جیل پہنچنے کی باضابطہ کال نہیں دی۔ ان کے مطابق کارکنان کی کم تعداد کو ناکامی کہنا قبل از وقت ہے، کیونکہ جب پارٹی کال دے گی تو بڑی تعداد میں کارکنان پہنچیں گے۔
کارکنان پر تشدد اور گرفتاریوں کا خدشہ، شاہد خٹک
پی ٹی آئی رہنما شاہد خٹک نے بتایا کہ کارکنان ملاقات میں شامل ہونا چاہتے ہیں، مگر رہنما انہیں روک دیتے ہیں کیونکہ اڈیالہ جیل کے باہر کارکنان پر تشدد اور گرفتاریوں کا خطرہ رہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی اس بات سے بھی محتاط ہے کہ کہیں دوبارہ 9 مئی جیسی صورتِ حال جنم نہ لے، اسی لیے بڑی تعداد میں کارکنان کو اکٹھا کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے۔
شاہد خٹک کے مطابق ملاقات کے دن صرف ارکانِ قومی و صوبائی اسمبلی کو آنے کی ہدایت کی جاتی ہے، کیونکہ پولیس انہیں گرفتار نہیں کرتی۔
انہوں نے کہا کہ اگر پارٹی کارکنان کو کال دے تو جیل کے اطراف بھر جائیں گے، لیکن پی ٹی آئی کسی بھی شرپسندی کے امکان کو روکنا چاہتی ہے۔
سہیل آفریدی کا دھرنا اور آئندہ لائحہ عمل
گزشتہ رات وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا دیا لیکن عمران خان سے ملاقات نہ ہو سکی۔
انہوں نے بتایا کہ انہیں ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، جس کے خلاف وہ ہائی کورٹ سے رجوع کر چکے ہیں۔ اگر منگل کو بھی ملاقات نہ ہوئی تو ممکن ہے کہ وہ کارکنان کے ہمراہ دوبارہ جیل پہنچیں۔
پارٹی کی خاموشی—حکمتِ عملی یا دباؤ؟
وزیراعلیٰ کے اعلان کے باوجود پی ٹی آئی نے کارکنان کو متحرک کرنے کی کوئی باضابطہ ہدایت جاری نہیں کی، جس سے سیاسی حلقوں میں سوالات جنم لے رہے ہیں کہ آیا واقعی پارٹی کارکنان کو جمع کرنے میں مشکلات کا شکار ہے یا یہ خاموشی پارٹی کی زیرِ غور حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔






