امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن ڈی سی میں نیشنل گارڈ کے اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعے کے بعد انتہائی سخت امیگریشن اقدامات کا اعلان کر دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ تمام "تھرڈ ورلڈ” ممالک سے ہجرت کو مستقل طور پر معطل کر رہے ہیں، جبکہ 19 ممالک کے گرین کارڈ ہولڈرز کی فوری آڈٹ کے احکامات بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 29 سالہ افغان نژاد رحمان اللہ لاکنوال پر دو نیشنل گارڈز پر فائرنگ کا الزام ہے۔ اس واقعے میں 20 سالہ سارہ بیکسٹروم ہلاک جبکہ ایک اور اہلکار شدید زخمی ہوا تھا۔ (واقعے کی تحقیقات ابھی جاری ہیں اور الزامات ثابت ہونا باقی ہیں)
پریس کانفرنس کے دوران ٹرمپ نے سابق صدر جو بائیڈن پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 2021 کے افغانستان انخلا کے دوران بغیر مکمل جانچ پڑتال کے مہاجرین امریکا لائے گئے، جس کے سنگین نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
ایک موقع پر جب ایک رپورٹر نے سوال اٹھایا کہ مبینہ حملہ آور کو ٹرمپ دور میں ویزہ ملا تھا، تو ٹرمپ نے سوال کو مسترد کرتے ہوئے رپورٹر کو ’’احمق‘‘ قرار دیا۔
صدر ٹرمپ نے مزید اعلان کیا کہ وہ:
ایسے غیر شہریوں کے وفاقی فوائد ختم کریں گے،
ان افراد کی شہریت منسوخ کریں گے جو امریکا کے لیے خطرہ سمجھے جائیں،
اور ان تمام لوگوں کو ملک بدر کیا جائے گا جنہیں ٹرمپ انتظامیہ ’’مغربی تہذیب سے مطابقت نہ رکھنے والا‘‘ تصور کرے گی۔
ان فیصلوں کے بعد امریکا میں امیگریشن پالیسی پر نئی بحث نے جنم لے لیا ہے، جبکہ انسانی حقوق کے کئی اداروں نے ان اقدامات کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔






