نیویارک/اسلام آباد – اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکا نے ایک بار پھر غزہ میں فوری اور غیر مشروط جنگ بندی سے متعلق قرارداد ویٹو کر دی، جس پر پاکستان سمیت عالمی برادری نے گہری مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان نے اس اقدام کو "افسوسناک اور ایک سیاہ لمحہ” قرار دیا۔
یہ چھٹی مرتبہ ہے کہ امریکا نے غزہ سے متعلق جنگ بندی کی کسی قرارداد کو ویٹو کیا ہے۔ سلامتی کونسل کے اجلاس میں پیش کی گئی قرارداد میں فوری جنگ بندی، بلارکاوٹ انسانی امداد کی رسائی، اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ شامل تھا۔
پاکستان سمیت 14 ممالک کا حمایت میں ووٹ
یہ قرارداد پاکستان سمیت 10 غیر مستقل رکن ممالک کی جانب سے پیش کی گئی تھی، جس کے حق میں سلامتی کونسل کے 14 ارکان نے ووٹ دیا، جبکہ امریکا نے تنہا ویٹو کا استعمال کیا۔ اجلاس میں کوئی بھی ملک غیر حاضر نہیں رہا۔
امریکی مؤقف اور فلسطینی ردعمل
سلامتی کونسل میں امریکی نمائندہ کا کہنا تھا کہ قرارداد "ناقابلِ قبول” ہے کیونکہ اس میں غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب فلسطینی تنظیم حماس نے امریکی اقدام کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا غزہ میں اسرائیلی جارحیت اور فلسطینی نسل کشی میں "براہ راست شریک” ہے۔
حماس نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیلی حکومت پر دباؤ ڈالے تاکہ غزہ میں صیہونی فوج کی کارروائیاں بند کی جا سکیں۔
پاکستان کا سخت ردعمل
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے سلامتی کونسل میں قرارداد کی منظوری نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
"یہ ایک تاریک لمحہ ہے۔ قرارداد کا مقصد غزہ میں انسانی بحران کو روکنا اور لاکھوں بے گناہ فلسطینیوں کی جانیں بچانا تھا۔ بدقسمتی سے ویٹو پاور نے سلامتی کونسل کو ایک اہم کارروائی سے روک دیا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ جنہوں نے سلامتی کونسل کو مؤثر اقدام سے روکا ہے، انہیں عالمی برادری سے معذرت کرنی چاہیے۔
تجزیہ: عالمی ضمیر ایک بار پھر امتحان میں
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا کے بار بار ویٹو کے نتیجے میں سلامتی کونسل کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔ عالمی سطح پر فلسطینیوں کے حق میں بڑھتے دباؤ کے باوجود، سیاسی مفادات انسانی حقوق پر حاوی دکھائی دیتے ہیں۔






