اہم خبریںپاکستانتازہ ترینلمحہ با لمحہ

ڈی جی آئی ایس پی آر: جنرل (ر) فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی عمل ہے، قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے

اسلام آباد:
ڈی جی انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ جنرل (ر) فیض حمید کا کورٹ مارشل ایک مکمل طور پر قانونی اور عدالتی عمل ہے، اس حوالے سے بلاوجہ قیاس آرائیاں نہیں ہونی چاہییں۔ وہ سینئر صحافیوں کو بریفنگ دے رہے تھے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاکستان جب بھی کوئی کارروائی کرتا ہے تو کھلے عام اس کا اعلان کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اکتوبر میں افغانستان میں ہونے والی کارروائی کے بارے میں بھی واضح اعلان کیا گیا تھا۔
ان کے مطابق پاکستان کبھی سویلین آبادی کو نشانہ نہیں بناتا اور بطور ریاست ذمہ دارانہ انداز میں ردعمل دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "خون اور تجارت ایک ساتھ نہیں چل سکتے، یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم پر حملے بھی ہوں اور ہم تجارت بھی جاری رکھیں۔”

افغانستان، دہشت گردی اور سرحدی صورتحال

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ہے، افغان عوام کے خلاف نہیں۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ دہشتگرد امریکی اسلحہ اور بلٹ پروف گاڑیاں استعمال کر رہے ہیں، یہی اسلحہ میانوالی حملے سمیت مختلف حملوں میں برآمد ہوا ہے۔
ان کے مطابق افغانستان میں چھوڑے گئے 7.2 ارب ڈالر مالیت کے ہتھیار اب دہشت گردوں کے ہاتھوں میں پہنچ چکے ہیں، اور پاکستان میں ہونے والی کارروائیوں میں اب تک 29 مرتبہ امریکی اسلحہ استعمال ہوا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اے میں کوئی فرق نہیں، دونوں پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ افغان حکام کو واضح پیغام دیا گیا ہے کہ اگر وہ حکومت ہیں تو انہیں ایک ریاست کی طرح رویہ اختیار کرنا ہوگا۔

آپریشنز اور سیکیورٹی صورتحال

بریفنگ میں بتایا گیا کہ رواں سال جنوری سے اب تک ملک بھر میں 67 ہزار سے زائد آپریشنز کیے جاچکے ہیں۔

خیبرپختونخوا میں 1,387

بلوچستان میں 3,485

جبکہ پنجاب اور دیگر علاقوں میں بھی مختلف سطح کے آپریشن کیے گئے۔

ان آپریشنز میں مجموعی طور پر 607 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوچکے ہیں جبکہ 210 دہشت گرد مارے گئے۔ صرف نومبر میں 4,910 آپریشنز ہوئے جن میں فوج اور ایف سی کے 57 اہلکار شہید ہوئے۔

اسمگلنگ کی روک تھام

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ بارڈر پر سختی بڑھا دی گئی ہے اور ایران سے ڈیزل کی اسمگلنگ 20.2 ارب روپے سے کم ہوگئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بارڈر پر اسمگلنگ روکنا بنیادی طور پر صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے، تاہم فوج اور ایف سی تعاون فراہم کر رہے ہیں۔

کورٹ مارشل پر مؤقف

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے ایک بار پھر واضح کیا کہ جنرل (ر) فیض حمید کا کورٹ مارشل ایک منظم قانونی عمل ہے اور جیسے ہی کارروائی مکمل ہوگی، میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔
انہوں نے میڈیا اور عوام سے اس معاملے پر غیرضروری قیاس آرائیوں سے اجتناب کی اپیل کی۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button