بشریٰ بی بی فیض حمید کیلئے کام کرتی تھیں: خواجہ آصف نے بالآخر بڑے راز سے پردہ چاک کردیا
اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک نیا دعویٰ کیا ہے کہ بشریٰ بی بی، جو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی اہلیہ ہیں، سابق انٹیلی جنس سربراہ جنرل فیض حمید کے لیے کام کرتی تھیں۔ خواجہ آصف نے اس بات کا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ بشریٰ بی بی کی فراہم کردہ معلومات چند روز میں درست ثابت ہو جاتی تھیں، اور ان کی سرگرمیاں سیاسی معاملات میں اہمیت رکھتی تھیں۔
پی ٹی آئی کی قیادت پر جنرل فیض حمید اور جنرل باجوہ کا کنٹرول
خواجہ آصف نے اکانومسٹ کی ایک خبر کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان مکمل طور پر جنرل فیض حمید اور جنرل قمر جاوید باجوہ کے کنٹرول میں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب جنرل عاصم منیر کی رپورٹ آئی، تو عمران خان نے ناراض ہو کر انہیں ہٹا دیا تھا، جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ فوجی قیادت کی سیاسی معاملات میں اہم مداخلت تھی۔
پاکستان میں سیاسی لوٹ مار کا الزام
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ پاکستان کے ساتھ سنگین مذاق کیا گیا اور طاقت کے لیے ایک خاتون (بشریٰ بی بی) کو لانچ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "چار پانچ سال کی لوٹ مار ایک منصوبے کے تحت کی گئی”، جس کے نتیجے میں پی ٹی آئی کی قیادت کو مالی فوائد ملے، جبکہ لوٹ مار کا پیسہ بیرون ملک منتقل کیا گیا۔
نواز شریف کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے اور پنجاب میں سیاسی مداخلت
وزیر دفاع نے نواز شریف کے خلاف سپریم کورٹ میں ہوئے فیصلوں کو "منصوبے” کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب جیسے اہم صوبے کے ساتھ سنگین مذاق کیا گیا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ آکسفورڈ سے تعلیم حاصل کرنے کے باوجود اس طرح کے اقدامات کیے گئے، جس سے ملک کی سیاسی صورتحال پیچیدہ ہو گئی۔
عدلیہ کی آزادی اور تبادلے کا نیا قانون
خواجہ آصف نے عدلیہ کے تبادلوں کے حوالے سے کہا کہ نئے قانون کے تحت فیصلے دنیا کے معیارات کے مطابق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جسٹس منصور علی شاہ نے کبھی چیف جسٹس بننے کے خواب دیکھے تھے، لیکن وہ اس عہدے تک نہیں پہنچ سکے۔ خواجہ آصف نے اس بات پر زور دیا کہ عدلیہ کو آزاد ہونا چاہیے، لیکن وہ "ثاقب نثار اور اعجاز الاحسن” جیسے انداز میں نہیں، جو ان کے مطابق سیاسی اثر و رسوخ سے متاثر تھے۔
فیض حمید کا عدالتوں اور پی ٹی آئی پر کنٹرول
وزیر دفاع نے یہ بھی کہا کہ فیض حمید عدالتوں اور پی ٹی آئی دونوں کو کنٹرول کر رہے تھے، اور ملک کی کمانڈ ایسے افراد کے ہاتھ میں دی گئی تھی جن کا سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔ خواجہ آصف نے یہ بھی انتباہ کیا کہ اگر بشریٰ بی بی دشمن ملک کے ہاتھ لگ جاتیں تو اس سے پاکستان کے لیے سنگین خطرات پیدا ہو سکتے تھے۔
یہ بیانات خواجہ آصف نے ایک ٹی وی پروگرام میں دیے، جس میں انہوں نے پاکستان کے داخلی معاملات، عدلیہ کی آزادی، اور سیاسی قیادت کے کردار پر تفصیل سے بات کی۔






