اہم خبریںدنیا

ایران کا مؤقف: تہران امن چاہتا ہے مگر جوہری و میزائل پروگرام ترک کرنے پر زبردستی قبول نہیں کرے گا — صدر مسعود پزشکیان

تہران: ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ تہران امن کا خواہاں ہے، تاہم جوہری اور میزائل پروگرام ترک کرنے کے لیے کسی ملک کے دباؤ یا زبردستی کو قبول نہیں کرے گا۔
خبر ایجنسی رائٹرز کے حوالے سے صدر پزشکیان نے کہا کہ ایران بین الاقوامی فریم ورک کے تحت مذاکرات کا حامی ہے، مگر اس شرط کو قبول نہیں کرے گا کہ اسے جوہری سائنس یا دفاعی میزائل رکھنے کے حق سے محروم کر دیا جائے۔ اُن کا کہنا تھا کہ اگر مذاکرات کی بنیاد یہ ہو کہ "ہمیں اپنا دفاعی نظام ختم کر دو یا پھر ہم پر بمباری کر دی جائے گی” تو وہ ایسی شرائط قبول نہیں کریں گے۔
مسعود پزشکیان نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض قوتیں اسرائیل کو ہتھیار فراہم کرتی ہیں اور اسی دوران ایران سے مطالبہ کرتی ہیں کہ وہ دفاع کے لیے میزائل نہ رکھے، جب کہ وہ جب چاہیں بمباری کر دیتے ہیں۔
صدر پزشکیان نے کہا کہ ایران امن اور استحکام چاہتا ہے مگر "مجبر نہیں کیا جا سکتا” — یعنی بین الاقوامی دباؤ یا قوت کے ذریعے اسے ایسی شرائط قبول کروانا قابلِ قبول نہیں۔
رپورٹ میں ذکر ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک روز قبل کہا تھا کہ ایران پوچھ رہا تھا کہ کیا امریکی پابندیاں ختم کی جا سکتی ہیں۔ تاہم ایران کی پالیسی یہ ہے کہ دفاعی صلاحیتیں بشمول میزائل پروگرام اور یورینیم کی افزودگی کے منصوبوں پر زبردستی مذاکرات ممکن نہیں۔
بتایا گیا ہے کہ اس سال جون میں ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ کے بعد جوہری مذاکرات کے پانچ دور منعقد ہوئے، جبکہ دونوں جانب سے عسکری کارروائیوں اور بمباری کی اطلاعات بھی آئیں۔ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام اس کے وجود کے لیے خطرہ ہے، جب کہ ایران اسے اپنے دفاع کے لیے لازمی قرار دیتا ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button