آسٹن (ٹیکساس): ٹیسلا کے بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ایلون مسک کے لیے دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا معاوضہ پیکیج منظور کر لیا گیا ہے، جس کی مالیت تقریباً ایک ٹریلین ڈالر (760 ارب پاؤنڈ) بتائی جا رہی ہے۔
کمپنی کے سالانہ جنرل اجلاس میں ہونے والی ووٹنگ میں 75 فیصد شیئر ہولڈرز نے اس غیر معمولی پیکیج کے حق میں ووٹ دیا۔ فیصلہ سنائے جانے پر اجلاس کے ہال میں زبردست تالیاں اور نعروں کی گونج سنائی دی۔
یہ معاوضہ پیکیج مسک کو آئندہ 10 سالوں میں ٹیسلا کی مارکیٹ ویلیو میں غیر معمولی اضافہ کرنے کی صورت میں دیا جائے گا۔ اگر وہ مقررہ اہداف حاصل کر لیتے ہیں تو انہیں سینکڑوں ملین نئے شیئرز ملیں گے جن کی مجموعی مالیت ایک ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
اگرچہ اس ریکارڈ ساز معاہدے پر بعض حلقوں کی جانب سے تنقید بھی کی جا رہی ہے، تاہم ٹیسلا بورڈ آف ڈائریکٹرز نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اگر یہ پیکیج مسترد کر دیا جاتا تو ایلون مسک ممکنہ طور پر کمپنی چھوڑ دیتے، اور ٹیسلا ان کے بغیر اپنا تسلسل برقرار نہیں رکھ سکتی۔
فیصلے کے اعلان کے بعد ایلون مسک نے ٹیکساس کے شہر آسٹن میں منعقدہ اجلاس کے اسٹیج پر آکر رقص کیا، جبکہ شرکاء نے ان کے حق میں نعرے بازی کی۔
اپنے خطاب میں مسک نے کہا:
"ہم جو کچھ شروع کرنے جا رہے ہیں وہ ٹیسلا کے مستقبل کا نیا باب نہیں، بلکہ ایک نئی کتاب ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ:
"دوسری کمپنیوں کے شیئر ہولڈر اجلاس بورنگ ہوتے ہیں، لیکن ہمارا اجلاس شاندار ہے۔”
مسک کے اہداف میں شامل ہے کہ ٹیسلا کی مارکیٹ ویلیو کو موجودہ 1.4 ٹریلین ڈالر سے بڑھا کر 8.5 ٹریلین ڈالر تک پہنچایا جائے، اور آئندہ چند برسوں میں 10 لاکھ خودکار روبوٹیکسی گاڑیاں کمرشل آپریشن میں شامل کی جائیں۔






