آئی ایم ایف کا گندم پالیسی میں کم از کم امدادی قیمت مقرر کرنے پر اعتراض
اسلام آباد: انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے حال ہی میں منظور شدہ گندم پالیسی میں کم از کم امدادی قیمت مقرر کرنے پر اعتراض اٹھایا تھا، تاہم وزارت فوڈ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پالیسی میں کم از کم امدادی قیمت نہیں بلکہ انڈیکیٹو قیمت کا تعین کیا گیا ہے۔
ذرائع وزارت فوڈ کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے گندم پالیسی کے خدوخال طلب کیے تھے، اور پالیسی کی منظوری کے بعد آئی ایم ایف کو خط بھی لکھا گیا۔ ابتدائی طور پر آئی ایم ایف نے کم از کم امدادی قیمت مقرر کرنے پر تحفظات کا اظہار کیا، کیونکہ انہیں یہ سمجھ آئی تھی کہ امدادی قیمت فکس کی گئی ہے، جو حقیقت میں غلط فہمی تھی۔
وزارت نے آئی ایم ایف کو بتایا کہ انڈیکیٹو قیمت امریکا کی انٹرنیشنل ہارڈ ریڈ گندم کی عالمی قیمت کو مدنظر رکھتے ہوئے نکالی گئی ہے۔ اس قیمت کا اندازہ کراچی میں لینڈنگ اخراجات اور ملتان تک درآمد شدہ گندم لانے کے اضافی خرچ شامل کرکے لگایا گیا ہے، جو تقریباً 3500 روپے فی من بنتی ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے اعتراضات وزیراعظم ہاؤس کے ساتھ بھی شیئر کیے گئے ہیں تاکہ مکمل وضاحت فراہم کی جا سکے۔ اس سلسلے میں حکومت نے عالمی مارکیٹ کی قیمتوں اور مقامی درآمدات کے اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے گندم کی قیمت کا تعین کیا ہے تاکہ کسانوں اور صارفین دونوں کے مفادات کا تحفظ ممکن ہو۔
مزید تفصیلات کے لیے وزارت فوڈ اور وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے بات چیت جاری ہے۔






