واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ قازقستان نے ابراہیمی معاہدے (Abraham Accords) میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق جلد مزید ممالک بھی اس معاہدے کا حصہ بنیں گے۔
وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات میں امریکی صدر نے پانچ وسطی ایشیائی ممالک کے رہنماؤں سے مختلف علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات میں غزہ کی صورتحال، ایران، اور روس-یوکرین جنگ کے موضوعات زیرِ بحث آئے۔
صحافیوں کے سوالات کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ قازقستان کے پہلے ہی اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات موجود ہیں، تاہم ابراہیمی معاہدے میں شامل ہونا ایک علامتی اور سفارتی اہمیت رکھتا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز امریکی نمائندہ خصوصی برائے مشرقِ وسطیٰ اسٹیو وٹکوف نے بیان دیا تھا کہ "آج رات ایک اور ملک ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کا اعلان کرے گا”، جس کے تحت اسرائیل اور مسلم اکثریتی ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لایا جا رہا ہے۔
ابراہیمی معاہدہ سب سے پہلے 2020ء میں متحدہ عرب امارات اور بحرین کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کے اعلان کے بعد سامنے آیا تھا، جس میں بعد ازاں سوڈان اور مراکش بھی شامل ہوئے تھے۔
ماہرین کے مطابق قازقستان کی شمولیت وسطی ایشیا میں ایک نئے سفارتی توازن کی نشاندہی کرتی ہے اور اس اقدام سے خطے میں امریکا کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔






