پاکستان سے بیرونِ ملک جانے والوں کیلئے نئی پالیسی نافذ
پاکستان سے بیرونِ ملک سفر کرنے والوں کے لیے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے نئی پالیسی نافذ کر دی ہے، جس کے تحت مسافروں کو روانگی سے قبل خصوصی کلیئرنس حاصل کرنا لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ ایجنٹس کے ذریعے غیر قانونی طور پر یورپ اور دیگر ممالک جانے کے بڑھتے واقعات کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔ نئی پالیسی کا مقصد انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی سفر کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔
ایف آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب، خیبر پختونخوا اور دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والے مسافر جو پہلی بار بیرونِ ملک سفر کر رہے ہیں اور جن کا تعلق سندھ سے نہیں، انہیں کراچی ایئرپورٹ سے روانگی سے قبل خصوصی کلیئرنس درکار ہوگی۔
ذرائع کے مطابق ایجنٹس شہریوں کو گمراہ کر کے انہیں قانونی سفری دستاویزات کے ساتھ یورپ یا دیگر ممالک بھیجنے کا وعدہ کرتے ہیں، لیکن بعد ازاں انہیں غیر قانونی راستوں اور کشتیوں کے ذریعے منتقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
امیگریشن حکام نے تصدیق کی ہے کہ نئی پالیسی کے تحت پنجاب سے جاری پاسپورٹ رکھنے والے مسافر اگر پہلی بار بیرونِ ملک جا رہے ہیں تو وہ کراچی ایئرپورٹ سے سفر نہیں کر سکیں گے۔ اسی طرح سائپرس جانے والے مسافروں کو بھی روکنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق ایف آئی اے افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ آف لوڈ کیے گئے مسافروں کی رپورٹس صبح و شام جمع کرائی جائیں۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو روز میں سینکڑوں مسافروں کو مختلف پروازوں سے آف لوڈ کیا جا چکا ہے۔
صرف سعودی ایئرلائن کی پرواز SV-709 سے 57 مسافروں کو آف لوڈ کیا گیا، جن میں 35 عمرہ زائرین اور 22 ملازمت کے ویزوں پر سفر کرنے والے افراد شامل تھے۔
ذرائع کے مطابق بعض ایئرلائنز نے قانونی پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے بورڈنگ کارڈ جاری کرنے کے بعد مسافروں کو آف لوڈ کرنا شروع کر دیا ہے۔ تاہم ایف آئی اے امیگریشن حکام کی جانب سے مسافروں کے پاسپورٹس پر آف لوڈ کی مہر نہیں لگائی جا رہی، جس کے باعث مسافروں کو لاکھوں روپے کے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔






