اہم خبریںتازہ تریندنیا

سالانہ 500 سے زائد لوگوں کی ہلاکت، افغانستان میں زلزلے کیوں عام ہیں؟ ماہرین کے مطابق ملک کیوں زلزلوں کی زد میں ہے؟

مزارِ شریف (رائٹرز / مانیٹرنگ ڈیسک):
افغانستان کے شمالی شہر مزارِ شریف کے قریب پیر کی صبح 6.3 شدت کا زلزلہ آیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 7 افراد جاں بحق اور 150 سے زائد زخمی ہو گئے۔

امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کا مرکز ضلع خُلم کے قریب تھا، جو مزارِ شریف کے مضافات میں واقع ہے۔ حکام کے مطابق امدادی کارروائیاں جاری ہیں جبکہ بعض علاقوں میں عمارتوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ملی ہیں۔

یہ زلزلہ اُس تباہ کن زلزلے کے صرف چند ماہ بعد آیا ہے جو اگست کے آخر میں مشرقی افغانستان میں آیا تھا اور جس میں 2 ہزار 200 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

افغانستان میں زلزلے کیوں عام ہیں؟

رائٹرز کے مطابق افغانستان ایک ایسا ملک ہے جو پہاڑوں سے گھرا ہوا ہے اور قدرتی آفات بالخصوص زلزلوں کا اکثر شکار رہتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ملک میں سالانہ اوسطاً 560 افراد زلزلوں سے ہلاک ہوتے ہیں، جبکہ مالی نقصان کا تخمینہ تقریباً 8 کروڑ ڈالر لگایا گیا ہے۔

تحقیقات کے مطابق 1990 سے اب تک افغانستان میں 5 یا اس سے زیادہ شدت کے 355 زلزلے آ چکے ہیں۔

زلزلوں کی جغرافیائی وجوہات

افغانستان یوریشیائی اور بھارتی ٹیکٹونک پلیٹس کے سنگم پر واقع ہے۔ یہ دونوں پلیٹس مسلسل ایک دوسرے کے قریب آ رہی ہیں، جبکہ جنوب میں عرب پلیٹ کا دباؤ بھی موجود ہے۔
ان پلیٹس کے باہمی ٹکراؤ اور دباؤ کے باعث افغانستان دنیا کے سب سے زیادہ زلزلہ خیز خطوں میں شمار ہوتا ہے۔

بھارتی پلیٹ کا شمال کی طرف دباؤ اور اس کا یوریشیائی پلیٹ سے تصادم اکثر شدید زلزلوں کا باعث بنتا ہے، جو خاص طور پر افغانستان کے شمالی اور مشرقی علاقوں کو متاثر کرتے ہیں۔

سب سے زیادہ متاثرہ علاقے

ماہرین کے مطابق افغانستان کے مشرقی اور شمال مشرقی علاقے — بالخصوص پاکستان، تاجکستان اور ازبکستان کی سرحدوں کے قریب — زلزلوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

دارالحکومت کابل بھی خطرناک زون میں واقع ہے، جہاں ہر سال زلزلوں سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ 1 کروڑ 70 لاکھ ڈالر لگایا جاتا ہے۔
پہاڑی علاقوں میں زلزلے کے بعد زمین کھسکنے (لینڈ سلائیڈنگ) کے واقعات بھی پیش آتے ہیں، جو جانی نقصان میں اضافہ کا باعث بنتے ہیں۔

افغانستان کے بدترین زلزلے

رائٹرز کے مطابق گزشتہ ایک صدی میں افغانستان میں تقریباً 100 بڑے تباہ کن زلزلے آ چکے ہیں۔

2023 میں ایک ہی مہینے کے دوران آنے والے زلزلوں میں 1,000 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

2022 میں 6 شدت کے زلزلے نے 1,000 افراد کی جان لی۔

2015 میں 7.5 شدت کے زلزلے سے افغانستان، پاکستان اور بھارت میں 399 افراد ہلاک ہوئے۔

1998 میں تین ماہ کے دوران دو بڑے زلزلوں میں 7,000 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے۔

پس منظر

ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں غیر معیاری تعمیرات، کمزور انفراسٹرکچر اور ریسکیو وسائل کی کمی قدرتی آفات کے اثرات کو مزید سنگین بنا دیتی ہے۔
دہائیوں کی جنگ، غربت اور مہاجرین کے بحران نے بھی ملک کو ان آفات کے مقابلے میں کمزور کر دیا ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button