لندن (ویب ڈیسک) — برطانوی حکومت نے کہا ہے کہ وہ ملک بھر میں پناہ گزینوں کو ہوٹلوں میں رکھنے کے سلسلے کو مرحلہ وار ختم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ حکومت کا یہ اعلان ایک تازہ رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں اس نظام کو "انتہائی بدنظمی اور ناقص انتظام” کا شکار قرار دیا گیا ہے۔
یہ رپورٹ، جسے صحافی ڈایان ٹیلر نے اجاگر کیا، اس بات پر روشنی ڈالتی ہے کہ پناہ گزینوں کے لیے ہوٹلوں کے استعمال نے نہ صرف بھاری مالی بوجھ ڈالا بلکہ مقامی برادریوں اور پناہ گزینوں دونوں کے لیے شدید مشکلات پیدا کیں۔
رپورٹ میں محکمہ داخلہ (Home Office) کے طریقۂ کار کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے اور اسے انتظامی ناکامی کی واضح مثال قرار دیا گیا۔
دوسری جانب حکومتی وزراء کا کہنا ہے کہ وہ پناہ گزینوں کو مستقل رہائش فراہم کرنے کے لیے متبادل منصوبوں پر کام کر رہے ہیں تاکہ ہوٹلوں پر انحصار ختم کیا جا سکے۔ تاہم، یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عوامی اعتماد میں کمی اور سرکاری اداروں کی کارکردگی پر سوالات بڑھ رہے ہیں۔
اسی پس منظر میں وزیرِ صحت ویس اسٹریٹنگ (Wes Streeting) نے کہا ہے کہ ملک میں اس وقت "مایوسی اور بداعتمادی کا بڑھتا ہوا احساس” پایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق برطانوی عوام کو اب یقین نہیں رہا کہ کوئی بھی حکومت واقعی ملک کو درست سمت میں لے جا سکتی ہے یا نہیں۔
ویس اسٹریٹنگ نے قومی صحت کے نظام (NHS) میں موجود ثقافتی اور انتظامی مسائل پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ “ذمہ داری سے فرار، مریضوں کی بات نہ سننا، اور غلطیوں پر پردہ ڈالنے” جیسے رویے عوامی اعتماد کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں نے ان کے اس بیان کو سابق امریکی صدر جمی کارٹر کی 1979ء کی مشہور تقریر — جسے "مالیز اسپیچ” (Malaise Speech) کہا جاتا ہے — سے تشبیہ دی ہے، جس میں کارٹر نے امریکہ کو “اعتماد کے بحران” میں مبتلا قرار دیا تھا۔
دوسری جانب ویسٹ منسٹر میں آج کئی حکومتی بحران زیرِ بحث ہیں — پناہ گزینوں کے ہوٹلوں کے مسئلے سے لے کر قیدیوں کی قبل از وقت رہائی کے تنازع تک — جو سبھی برطانوی عوامی نظام کی مسلسل ناکامیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔






