چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے ایک سالہ دور میں عدلیہ کی کارکردگی پر عدم اعتماد
اسلام آباد: سپریم کورٹ کی جانب سے انصاف کے نظام میں بہتری کے دعووں کے باوجود، قانونی ماہرین اور وکلا کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کے ایک سالہ دور میں عدلیہ کی کارکردگی سے زیادہ متاثر نہیں ہیں اور اس پر عوامی اور قانونی سطح پر اعتماد کمزور ہے۔
سپریم کورٹ نے ایک سال کے دوران اپنے کام کی تعریف کرتے ہوئے ججوں، وکلا اور وفاقی حکومت کے تعاون کا اعتراف کیا، تاہم سابق ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق محمود کھوکھر نے کہا کہ یہ پریس ریلیز ادارہ جاتی کمزوری کی علامت ہے اور اہم مسائل حل نہیں ہوئے۔
وکلا نے مختلف آراء دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے منتخب کیے گئے ججز کے ذریعے انصاف فراہم کرنا شفافیت کی ضمانت نہیں دیتا۔ ردا حسین نے کہا کہ نئے ضابطہ اخلاق کے تحت ججز کو انتظامی اور عدالتی معاملات پر عوامی طور پر بات کرنے سے روکا جانا عوامی اعتماد کو متاثر کرتا ہے۔
دوسری جانب حافظ احسان احمد نے کہا کہ سپریم کورٹ نے قوانین میں ترامیم، ڈیجیٹل تبدیلی اور فوجداری و ٹیکس کے معاملات پر توجہ دے کر تعمیری اقدامات کیے ہیں، لیکن عدلیہ پر عوام کا اعتماد مضبوط کرنے کے لیے مزید اقدامات ضروری ہیں۔






