واشنگٹن (ویب ڈیسک) — مشرقِ وسطیٰ کے لیے سابق امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے قطر میں حماس کے مبینہ ٹھکانے پر حملے کے بعد اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شدید تحفظات پیدا ہوئے، اور انہیں محسوس ہوا کہ اسرائیل اب امریکی اثر سے باہر نکلتا جا رہا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں وٹکوف نے بتایا کہ انہیں اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کو اس حملے کی کوئی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جب حملے کی خبر منظر عام پر آئی، تو صدر ٹرمپ نے فوری طور پر فون کر کے شدید ناراضگی کا اظہار کیا۔
اسٹیو وٹکوف کے مطابق، "ہم دونوں خود کو دھوکا کھایا ہوا محسوس کر رہے تھے۔” حملے کے نتیجے میں قطر کا امریکہ پر اعتماد متزلزل ہوا، جبکہ حماس نے اپنی سرگرمیاں زیرِ زمین منتقل کر دیں اور ان سے براہ راست رابطے تقریباً ناممکن ہو گئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس واقعے نے واضح کر دیا کہ اسرائیل خطے میں امریکی پالیسیوں سے ہٹ کر آزاد فیصلے کرنے لگا ہے، جو امریکی مشرقِ وسطیٰ پالیسی کے لیے ایک اہم چیلنج ہے۔
یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات میں بعض پالیسی امور پر اختلافات پہلے ہی خبروں کی زینت بن چکے ہیں، خصوصاً ایران، فلسطین اور خلیجی ریاستوں کے حوالے سے۔






