اہم خبریںپاکستانتازہ ترینلمحہ با لمحہ

کابل کےحکمران بھارت کی گود میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں: خواجہ آصف

اسلام آباد ؛ وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان اب بھارت کی پراکسی بن چکا ہے اور دہشتگردی کی موجودہ لہر بھارت، افغانستان اور کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی کے مشترکہ عزائم کے تحت پاکستان پر مسلط کی گئی ہے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ کابل کے حکمران "بھارت کی گود میں بیٹھ کر” پاکستان کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا، "کل تک یہ کابل کے حکمران ہماری پناہ میں تھے، ہماری زمین پر چھپتے پھرتے تھے — اب صورتحال بدل چکی ہے۔”

خواجہ آصف نے واضح کیا کہ پاکستان ماضی کی طرح کابل کے ساتھ غیرمشروط تعلقات برقرار رکھنا برداشت نہیں کر سکتا اور کہا کہ "تمام افغانوں کو اپنے وطن جانا ہوگا، اب کابل میں ان کی اپنی حکومت ہے” جبکہ انہوں نے اس امر کی طرف بھی اشارہ کیا کہ اسلامی انقلاب کو پانچ سال ہو چکے ہیں۔

وزیر دفاع نے کہا کہ افغانستان کو پاکستان کے ساتھ ایک ہمسائے کی طرح رہنا ہوگا، اور زور دے کر کہا کہ "ہماری سرزمین اور وسائل 25 کروڑ پاکستانیوں کی ملکیت ہیں — پانچ دہائیوں کی زبردستی کی مہمان نوازی کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ خوددار قومیں بیگانی سرزمین اور وسائل پر نہیں پلتیں۔”

انہوں نے دھمکی آمیز انداز میں کہا کہ اب محض احتجاجی مراسلے اور امن کی اپیلیں کافی نہیں رہیں گی: "کابل وفد نہیں جائیں گے، دہشتگردی کا منبع جہاں بھی ہوگا اس کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی۔”

وزیر دفاع نے یہ بھی بتایا کہ طالبان کے 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے پاکستان نے امن قائم رکھنے اور افغانستان سے دراندازی روکنے کے لیے متعدد سفارتی اور عسکری کوششیں کی ہیں۔ ان کے بقول، متعلقہ مباحثوں اور رابطوں میں شامل ریکارڈ درج ذیل ہیں:

4 دورے وزیر خارجہ کے

2 دورے وزیر دفاع اور آئی ایس آئی کے

نمائندہ خصوصی اور سکریٹری کے پانچ پانچ دورے

نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر کا ایک دورہ

جوائنٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کے 8 اجلاس

225 بارڈر فلیگ میٹنگز

836 احتجاجی مراسلے

13 ڈیمارشیز

خواجہ آصف نے پاکستان میں دہشتگردی کے تازہ اعداد و شمار بھی بتائے اور کہا کہ 2021 سے اب تک ملک میں 10,347 واقعات پیش آئے جن میں 3,844 افراد شہید ہوئے — شہدا میں سول، فوجی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار شامل ہیں۔ وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ پانچ سالہ مدت میں پاکستان کی جانب سے جو کوششیں اور قربانیاں کی گئیں، اس کے باوجود کابل سے مثبت ردِ عمل نہیں ملا۔

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ وزیر دفاع کے بیان سے خطے میں سفارتی روابط اور سرحدی کشیدگی مزید اُبھری ہوئی صورت حال اختیار کر سکتے ہیں، جبکہ حکومت کی مستقبل کی حکمت عملی اور ممکنہ جوابی کارروائیوں پر ملکی اور بین الاقوامی سطح پر توجہ مرکوز رہے گی۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button