کراچی (14 اکتوبر 2025) — پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں پیر کے روز بھی شدید مندی کا رجحان برقرار رہا، جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس 4,654.77 پوائنٹس (2.85%) کی بھاری کمی کے بعد 158,443.42 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔
مندی کی بنیادی وجوہات میں آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدے کے بغیر مذاکرات کا اختتام، افغانستان کے ساتھ سرحدی کشیدگی، سیاسی غیر یقینی صورتحال اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی مسلسل حصص فروخت شامل ہیں۔
ایک دن میں 5 سطحیں گر گئیں، سرمایہ کاروں کا 5 کھرب روپے سے زائد ڈوب گیا
مندی کے باعث انڈیکس کی 163,000، 162,000، 161,000، 160,000 اور 159,000 کی سطحیں ٹوٹ گئیں۔ کاروباری دن کے دوران انڈیکس میں ایک موقع پر 5,420 پوائنٹس کی کمی بھی دیکھی گئی، تاہم اختتامی لمحات میں مخصوص شعبوں میں نچلی سطح پر خریداری کے باعث معمولی بحالی آئی۔
کاروبار کے اختتام پر سرمایہ کاروں کو مجموعی طور پر 5 کھرب 33 ارب 93 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان برداشت کرنا پڑا، جبکہ 78 فیصد کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی۔
افغان سرحدی کشیدگی اور مبینہ حملہ، منڈیوں میں بے یقینی
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق، افغانستان کے ساتھ حالیہ کشیدگی، جہاں مبینہ حملے میں 23 پاکستانی فوجی شہید اور 200 شدت پسند ہلاک ہوئے، نے مالیاتی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
ماہرین کی رائے: غیر یقینی صورتحال مزید جاری رہ سکتی ہے
JS گلوبل کے وقاص غنی کے مطابق، صرف چھ تجارتی سیشنز میں مارکیٹ 9,500 پوائنٹس کھو چکی ہے، جس کی بنیادی وجہ جیوپولیٹیکل غیر یقینی صورتحال اور اہم شعبوں میں بڑے پیمانے پر فروخت ہے۔
کے ٹریڈ سیکیورٹیز کے احمد شیراز نے کہا کہ آئی ایم ایف کی سخت شرائط، کمزور معاشی اشاریے، ممکنہ مالیاتی پالیسی میں تبدیلی، اور TLP کے احتجاج جیسے عوامل نے سرمایہ کاروں کا اعتماد شدید متاثر کیا ہے۔
عارف حبیب لمیٹڈ کے مطابق مارکیٹ کا آغاز ہی مندی سے ہوا اور پورے دن دباؤ میں رہی۔ بینکنگ، توانائی، سیمنٹ اور دیگر اہم شعبوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔
زیادہ کاروبار ہونے والے شیئرز اور حجم
کاروباری حجم 1.36 ارب حصص رہا، جس میں "کے الیکٹرک” 197.3 ملین حصص کے ساتھ سب سے زیادہ فعال اسٹاک رہا۔ PSX کے مطابق کل تجارتی مالیت کا 65 فیصد شریعت کے مطابق شیئرز پر مشتمل تھا، جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں نے 617.1 ملین روپے مالیت کے شیئرز خریدے۔
مستقبل کا منظرنامہ
ماہرین کے مطابق اگر سیکیورٹی اور معاشی صورتحال میں بہتری نہ آئی، تو منڈی میں غیر یقینی رجحان آئندہ دنوں میں بھی برقرار رہنے کا امکان ہے۔ تاہم، آئی ایم ایف کے ساتھ پیش رفت اور سیاسی استحکام ہی مارکیٹ کو سنبھالا دے سکتے ہیں۔






