اسلام آباد ؛ پاکستان سے برطانیہ کے لیے براہ راست پروازوں کی بحالی کا معاملہ تاحال غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے، جب کہ برطانوی سول ایوی ایشن (یو کے ڈی ٹی ایف) کی جانب سے پاکستانی ایئرلائنز پر عائد پابندیاں ہٹے ہوئے ایک ماہ سے زائد گزر چکا ہے۔
ذرائع کے مطابق تھرڈ کنٹری آپریشن (TCO) لائسنس کے حصول میں ناکامی، براہ راست پروازوں میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ اس ضمن میں سول ایوی ایشن اتھارٹی (CAA)، پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (PIA) اور نجی ایئرلائنز ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالنے میں مصروف ہیں۔
ذمہ داری کا تعین متنازع
ذرائع کا کہنا ہے کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی کا موقف ہے کہ ٹی سی او اجازت نامہ حاصل کرنا ایئرلائنز کی ذمہ داری ہے، جبکہ ایئرلائنز کا کہنا ہے کہ یہ اجازت نامہ دراصل ریاستی سطح پر جاری ہوتا ہے، اس لیے یہ کام ایوی ایشن اتھارٹی کو کرنا چاہیے۔
اس حوالے سے سول ایوی ایشن کے ترجمان نے وضاحت دیتے ہوئے کہا:
"ہمارا دائرہ اختیار صرف پابندیاں ختم کروانے تک تھا، اب یہ عمل ایئرلائنز کی ذمہ داری ہے۔”
پی آئی اے اور نجی ایئرلائنز کا موقف
ترجمان پی آئی اے نے کہا کہ:
"فی الحال برطانیہ سے باضابطہ طور پر ٹی سی او منظوری نہیں ملی ہے۔ جیسے ہی منظوری ملے گی، براہ راست پروازوں کا **شیڈول جاری کر دیا جائے گا۔”
دوسری جانب ایک نجی ایئرلائن نے بھی تصدیق کی کہ وہ ٹی سی او منظوری کا انتظار کر رہے ہیں، تاہم ان کی جانب سے تمام منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے۔
تاریخیں تبدیل ہوتی رہیں
ابتدائی طور پر 14 اگست، پھر 16 اگست اور اس کے بعد ستمبر کے پہلے ہفتے کو براہ راست پروازوں کے آغاز کی ممکنہ تاریخیں دی گئیں، لیکن ٹی سی او لائسنس کی عدم دستیابی کے باعث یہ پروازیں شروع نہ ہو سکیں۔
مسافروں میں تشویش
برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی اور ان کے اہل خانہ جو پاکستان سے براہ راست سفر کی سہولت کے منتظر ہیں، اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ بار بار تاریخوں کے اعلان اور ان میں تبدیلی نے مسافروں کو غیریقینی صورتحال میں مبتلا کر دیا ہے۔
خلاصہ:
پاکستان سے برطانیہ کے لیے براہ راست پروازوں کا مستقبل ٹی سی او منظوری سے مشروط ہے۔ جب تک یہ لائسنس جاری نہیں ہوتا، ایئرلائنز کو پروازوں کے آغاز میں مشکلات کا سامنا رہے گا، اور فی الحال کوئی حتمی تاریخ دینا ممکن نہیں۔






