پشاور (ویب ڈیسک): خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی کی جانب سے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کے استعفوں پر اعتراض کے بعد سیاسی منظرنامے میں نئی ہلچل مچ گئی ہے۔ گورنر کی جانب سے دستخطوں پر اختلافات کا اظہار کرتے ہوئے استعفیٰ واپس کرنے کے فیصلے پر وزیراعلیٰ نے سوشل میڈیا پر دو ٹوک ردعمل دے دیا ہے۔
وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے اپنے پیغام میں واضح کیا کہ انہوں نے 8 اور 11 اکتوبر کو اپنے باقاعدہ اور مستند دستخط کے ساتھ استعفے جمع کرائے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ 8 اکتوبر کا استعفیٰ، جسے پہلے مسترد کیا گیا تھا، اب گورنر کی جانب سے تسلیم کرلیا گیا ہے۔
انہوں نے گورنر کی جانب سے کی گئی پوسٹ کا جواب دیتے ہوئے دونوں استعفوں کی کاپیاں بھی سوشل میڈیا پر شیئر کر دیں، تاکہ عوام خود فیصلہ کر سکیں کہ دستخط میں کوئی فرق ہے یا نہیں۔
یاد رہے کہ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے علی امین گنڈا پور کے استعفوں پر دستخطوں میں فرق کا اعتراض اٹھایا تھا، اور اس بنیاد پر استعفے واپس کر دیے تھے۔ گورنر کی جانب سے لکھے گئے باضابطہ خط میں دونوں استعفوں پر موجود دستخطوں کو "غیر مشابہ اور مختلف” قرار دیا گیا۔
گورنر نے وزیراعلیٰ کو ہدایت دی ہے کہ وہ استعفوں کی تصدیق کے لیے 15 اکتوبر کو سہ پہر 3 بجے گورنر ہاؤس آئیں، تاکہ اصل صورتِ حال واضح کی جا سکے۔






