غزہ امن معاہدے پر 20 ملکی سربراہی اجلاس، وزیراعظم شہباز شریف مصر روانہ
اسلام آباد / شرم الشیخ — وزیراعظم محمد شہباز شریف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی کی خصوصی دعوت پر غزہ میں جنگ بندی اور پائیدار امن کے لیے بلائے گئے 20 ملکی سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے مصر کے شہر شرم الشیخ روانہ ہو گئے ہیں۔
وزیراعظم کے ہمراہ پاکستانی وفد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ سمیت دیگر اعلیٰ حکام شامل ہیں۔
یہ اہم اجلاس شرم الشیخ میں منعقد ہو رہا ہے، جس کا مقصد غزہ میں جاری جنگ کے خاتمے، انسانی امداد کی فراہمی اور خطے میں دیرپا امن کی بحالی ہے۔ اجلاس میں وزیراعظم پاکستان کے علاوہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، مصری صدر عبدالفتاح السیسی، ترک صدر رجب طیب اردوان، امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی، اردن، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر عرب و اسلامی ممالک کے سربراہان شرکت کر رہے ہیں۔
غزہ امن معاہدے پر دستخط
شرم الشیخ اجلاس کے دوران عالمی رہنما غزہ میں جنگ بندی اور قیامِ امن کے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کریں گے، جسے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سائیڈ لائنز پر ہونے والی سفارتی کوششوں کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی اس اجلاس میں شرکت پاکستان کی جانب سے فلسطینی عوام کی بھرپور حمایت، اور ان کے سیاسی و سفارتی حقوق کے لیے مستقل آواز بلند کرنے کی پالیسی کا تسلسل ہے۔
پاکستان کا مؤقف
اجلاس سے قبل جاری کیے گئے ایک مشترکہ اعلامیے میں وزیراعظم شہباز شریف سمیت عالمی سربراہان نے صدر ٹرمپ کے غزہ میں جنگ بندی، پائیدار امن اور خطے کی ترقی کے منصوبے کا خیر مقدم کیا تھا۔ پاکستان کو امید ہے کہ اس اجلاس اور اس کے نتیجے میں طے پانے والے معاہدے کے بعد غزہ میں جاری انسانی المیہ رک جائے گا، اور فلسطینی عوام کو سکون اور تحفظ میسر آئے گا۔






