اہم خبریںپاکستانتازہ ترین

وفاقی بجٹ 2025-26 پیش: معیشت کے استحکام اور عوامی ریلیف پر زور، ٹیکس میں نمایاں کمی، تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال 2025-26 کا بجٹ پیش کر دیا، جس کا حجم 17 ہزار 573 ارب روپے ہے۔ اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن پاک، نعت رسول مقبول ﷺ اور قومی ترانے سے ہوا۔

وزیر خزانہ نے اپنی تقریر میں اس بجٹ کو "غیر معمولی حالات میں پیش کیا گیا ایک قومی یکجہتی کا مظہر” قرار دیا اور کہا کہ بھارت کے خلاف قومی اتحاد ایک سنہری تاریخ بن چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب قوم کی توجہ معاشی استحکام اور ترقی کی جانب ہے، اور یہی بجٹ اسی وژن کی عکاسی کرتا ہے۔

سرکاری ملازمین اور عوام کے لیے بڑا ریلیف
بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو بڑا ریلیف دیا گیا ہے:

گریڈ 1 تا 16 کے ملازمین کے لیے 30 فیصد ڈسپیرٹی الاؤنس کی تجویز

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ

پنشن میں 7 فیصد کے بجائے 10 فیصد اضافہ

انکم ٹیکس کی شرح میں واضح کمی:

6 سے 12 لاکھ روپے سالانہ آمدن والوں پر ٹیکس 5 فیصد سے کم کر کے 1 فیصد

12 لاکھ آمدن پر ٹیکس 30,000 سے گھٹا کر صرف 6,000 روپے

22 لاکھ آمدن پر ٹیکس 15 فیصد سے کم کر کے 11 فیصد

32 لاکھ آمدن پر ٹیکس 25 فیصد سے کم کر کے 23 فیصد

معاشی اہداف اور ترقیاتی وژن
وزیر خزانہ نے بتایا کہ:

معاشی شرح نمو (GDP Growth) کا ہدف 4.2 فیصد

مہنگائی کا ہدف 7.5 فیصد

ترسیلات زر کا ہدف 39.4 ارب ڈالر

برآمدات کا ہدف 35.3 ارب ڈالر

درآمدات کا ہدف 65.2 ارب ڈالر

کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 2.1 ارب ڈالر تک محدود رکھنے کا ہدف

نیشنل سیونگز کا ہدف 14.3 فیصد

ایف بی آر اور ٹیکس اصلاحات
ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف 14,131 ارب روپے

نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 5,147 ارب روپے

عدالتی ADR میکانزم سے قومی خزانے کو 77 ارب روپے کی وصولی

ٹیکس نیٹ کی توسیع، ایف بی آر کی اصلاحات اور ڈیجیٹلائزیشن پر زور

ترقیاتی اخراجات اور اہم شعبہ جات
PSDP کے تحت ترقیاتی بجٹ کا حجم 1,000 ارب روپے

توانائی، زراعت، انفراسٹرکچر، آئی ٹی، تعلیم، صحت اور نوجوانوں کے منصوبے ترجیح

پاور سیکٹر میں بنیادی اصلاحات، بجلی کی ترسیل کے نظام کی بہتری

فیصل آباد، گوجرانوالہ، اسلام آباد کی بجلی کمپنیوں کی نجکاری مکمل

NTDCL کو تین حصوں میں تقسیم کر کے انتظامی بہتری لائی گئی

دفاع، قرض، پنشن اور سبسڈی
دفاع کے لیے 2,550 ارب روپے مختص

قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 8,207 ارب روپے

پنشن کے لیے 1,055 ارب روپے

سبسڈیز کے لیے 1,186 ارب روپے

ایمرجنسی فنڈز کے لیے 289 ارب روپے

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button