واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبیل امن انعام تو نہ مل سکا، لیکن وہ غزہ میں جنگ بندی کو اپنی بڑی سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے اسے منانے مشرق وسطیٰ کا دورہ کریں گے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ اتوار کو اسرائیل پہنچیں گے جہاں وہ غزہ امن منصوبے کی کامیابی پر جشن منائیں گے اور ممکنہ طور پر اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی پر ان کا استقبال کریں گے۔
اس کے بعد امریکی صدر مصر جائیں گے جہاں اس تاریخی جنگ بندی معاہدے پر فریقین نے طویل مذاکرات کے بعد اتفاق کیا تھا۔ ٹرمپ مصر میں غزہ امن منصوبے کے پہلے مرحلے پر طے ہونے والے معاہدے پر دستخط کی تقریب میں بھی شرکت کریں گے۔
اسرائیل اور حماس دونوں نے امریکی صدر کے مذاکراتی کردار کو سراہا ہے، جبکہ عرب ممالک میں بھی ان کے استقبال کے لیے خیرمقدمی تقاریب کی توقع ہے۔
ماہرین کا مؤقف
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ٹرمپ اس معاہدے کا کریڈٹ حاصل کر رہے ہیں، لیکن حقیقی امن تبھی ممکن ہوگا جب وہ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو پر دباؤ ڈالیں کہ جنگ بندی کے بعد بمباری دوبارہ شروع نہ کی جائے۔
دوحہ انسٹی ٹیوٹ کے پروفیسر محمد المصری کا کہنا ہے کہ "ہمیں امید ہے کہ ٹرمپ نیتن یاہو کو یہ باور کرائیں گے کہ اب جنگ کا خاتمہ ناگزیر ہے۔”





