توشہ خانہ ٹو کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کے عدالت میں دیے گئے بیانات سامنے آگئے
اسلام آباد ؛ – چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے توشہ خانہ ٹو کیس میں دفعہ 342 کے تحت اپنے بیانات عدالت میں جمع کرا دیے ہیں، جن میں دونوں نے کیس کو "من گھڑت، بدنیتی پر مبنی اور قانونی دائرہ اختیار سے باہر” قرار دیا ہے۔
عمران خان کا بیان: "محض رپورٹ نہ کرنے پر کارروائی کیسے ہو سکتی ہے؟”
عمران خان نے عدالت کو دیے گئے بیان میں مؤقف اختیار کیا کہ:
"کیا 2018 کی توشہ خانہ پالیسی کے تحت صرف تحائف کی رپورٹ نہ کرنے پر کارروائی کی جا سکتی ہے؟ ہم نے توشہ خانہ کے تحائف 7 سے 10 مئی 2021 کے دوران حاصل کیے، جس پر نیب نے کیس بنا دیا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ توشہ خانہ سے متعلقہ رولز ایف آئی اے کے دائرہ اختیار پر خاموش ہیں، لہٰذا ان کے اور ان کی اہلیہ کے خلاف اس بنیاد پر چوتھا جعلی کیس بنایا گیا۔
عمران خان نے مرکزی گواہ انعام اللہ شاہ پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ:
"انعام اللہ شاہ بدنیتی سے 2 سرکاری تنخواہیں لے رہا تھا، اسی بنا پر اسے وزیراعظم آفس سے برطرف کیا گیا۔ وہ جہانگیر ترین گروپ کا حصہ تھا۔”
انہوں نے الزام لگایا کہ انعام اللہ شاہ نے پہلے توشہ خانہ کیس میں بلغاری جیولری سیٹ کا ذکر تک نہیں کیا، اب سیاسی بنیادوں پر گواہی دے رہا ہے۔
بشریٰ بی بی کا بیان: "میں کبھی سیاسی سرگرمیوں کا حصہ نہیں رہی”
عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے عدالت میں اپنے 342 کے بیان میں کہا کہ:
"بلغاری جیولری سیٹ کے لیے توشہ خانہ رولز کے مطابق ادائیگی کی اور اسے اپنے پاس رکھا۔ انعام اللہ شاہ کو کبھی صہیب عباسی سے قیمت کم لگوانے کا نہیں کہا۔”
انہوں نے کہا کہ اگر بفرضِ محال انعام اللہ نے واقعی 3 ارب 20 کروڑ روپے کا فائدہ دیا، تو پھر صرف 70 ہزار زائد تنخواہ لینے پر جولائی 2021 میں برطرف کیوں کیا گیا؟
بشریٰ بی بی نے نیب کی کارروائی کو بھی غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ:
"چیئرمین نیب نے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے وعدہ معاف گواہ صہیب عباسی کو معافی دی۔ نہ ہی ایف آئی اے نے تحقیقات کیں، نہ کوئی شہادت دی گئی۔”
انہوں نے مزید کہا:
"پردہ نشین خاتون ہوں، کبھی کسی سیاسی معاملے میں شریک نہیں ہوئی۔ ایک ہی الزام پر بار بار کارروائی کی جا رہی ہے، جو قانون کے خلاف ہے۔”
پس منظر
واضح رہے کہ عدالت کی جانب سے 29 سوالات پر مشتمل دفعہ 342 کا سوالنامہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو دیا گیا تھا، جس کے بعد دونوں نے گزشتہ روز اپنے تحریری بیانات جمع کرائے۔ توشہ خانہ ٹو کیس میں ان پر تحائف کی تفصیلات چھپانے، کم قیمت لگوانے، اور قواعد کی خلاف ورزی کے الزامات ہیں۔
تحریک انصاف کے وکلاء کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ سیاسی انتقام کا حصہ ہے، جبکہ پراسیکیوشن اسے قانونی بدعنوانی کا سنجیدہ کیس قرار دے رہی ہے۔






