اوسلو ؛ – نوبل امن انعام 2025 کا اعلان آج ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں کیا جائے گا۔ نوبل کمیٹی کا کہنا ہے کہ یہ انعام ہمیشہ بانی الفریڈ نوبل کے نظریات سے ہم آہنگ شخص یا ادارے کو دیا جاتا ہے۔ اس سال بھی دنیا بھر کی نظریں اس اعلان پر مرکوز ہیں، خاص طور پر اس لیے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس انعام کے لیے غیرمعمولی پرامیدی کا اظہار کر چکے ہیں۔
گزشتہ روز ایک بیان میں ٹرمپ نے کہا، "اگر مجھے یہ انعام نہیں دیا جاتا تو یہ ہمارے ملک کی بہت بڑی توہین ہو گی۔” ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ انہوں نے عالمی امن کے لیے کئی اہم اقدامات کیے ہیں، جن میں غزہ جنگ بندی، مشرق وسطیٰ میں ابراہام معاہدے، اور کووِڈ ویکسین کی فوری تیاری شامل ہیں۔
ٹرمپ کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اپنے دور صدارت میں سات بین الاقوامی تنازعات کا خاتمہ کیا، اور وہ روس-یوکرین تنازعے کے حل کا بھی عزم ظاہر کرتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، اسرائیل اور حماس کے درمیان حالیہ جنگ بندی کا اعلان ایسے وقت میں ہوا جب نوبل امن انعام کے اعلان میں محض دو دن باقی تھے، جس نے اس قیاس کو تقویت دی کہ یہ اقدام نوبل انعام کے تناظر میں جلد بازی میں کیا گیا۔
بین الاقوامی حمایت اور نامزدگیاں
متعدد ممالک بشمول پاکستان، اسرائیل، کمبوڈیا اور تائیوان نے ٹرمپ کی نامزدگی کی حمایت کی ہے۔ امریکہ کے اندر بھی کئی اہم شخصیات جیسے کہ Pfizer کے سی ای او البرٹ بورلا اور سینیٹر بل کیسیڈی انہیں نوبل امن انعام کے لیے موزوں قرار دے چکے ہیں۔
نوبل کمیٹی کا مؤقف
اس کے باوجود، اوسلو کے پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی ڈائریکٹر نینا گریگر کا کہنا ہے کہ نوبل انعام عموماً گزشتہ سال کی کارکردگی کی بنیاد پر دیا جاتا ہے۔ چونکہ ٹرمپ نے 2024 کے اختتام پر صدارتی انتخابات جیتے تھے لیکن 2025 کے آغاز تک عہدہ نہیں سنبھالا تھا، اس لیے ان کی عملی خدمات کا جائزہ اگلے سال لیا جا سکتا ہے۔
نوبل کمیٹی کے سربراہ کے مطابق، اس سال کے انعام پر فیصلہ پیر کے روز ہی ہو چکا تھا، اور قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اس سال کے ممکنہ امیدواروں کی فہرست میں ٹرمپ کا نام شامل نہیں تھا۔ اس کے برعکس، ان اداروں کے نام نمایاں ہیں جن سے ٹرمپ کے تعلقات تنازعات کا شکار رہے، جیسے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) اور کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (CPJ)۔
کیا یہ دوڑ ختم ہو چکی؟
ٹرمپ کی جانب سے نوبل انعام کے لیے چلائی جانے والی مہم اپنی نوعیت کی منفرد مثال ہے۔ اگر آج ہونے والے اعلان میں ان کا نام شامل نہ ہوا تو بھی ان کے حامی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ سینیٹر بل کیسیڈی اور نمائندہ کلاڈیا ٹینی پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ وہ 2026 میں ٹرمپ کو دوبارہ نامزد کریں گے۔
اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا ٹرمپ کے اقدامات انہیں امن کے نوبل انعام کا حقدار بنا سکیں گے یا یہ دوڑ آنے والے برسوں تک جاری رہے گی۔






