عالمی بینک کی رپورٹ: حالیہ سیلاب سے پاکستان کی معیشت کو شدید نقصان، مہنگائی میں 7.2 فیصد تک اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: (مانیٹرنگ ڈیسک) عالمی بینک نے پاکستان میں حالیہ سیلاب کے معیشت پر منفی اثرات اور مہنگائی میں اضافے سے متعلق تشویشناک رپورٹ جاری کر دی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حالیہ بارشوں اور سیلابی صورتحال نے ملکی معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس کے باعث مہنگائی کی شرح 7.2 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔
عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق سیلاب سے انفرااسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کی فوری بحالی نہ صرف ضروری ہے بلکہ معیشت کی بحالی کے لیے بھی ناگزیر ہو چکی ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ عوامی خدمات کی فراہمی متاثر ہونے اور بجٹ پر اضافی بوجھ پڑنے کے امکانات بھی موجود ہیں۔
زرعی شعبہ سب سے زیادہ متاثر
رپورٹ میں پنجاب میں زرعی پیداوار میں کم از کم 10 فیصد کمی کی پیش گوئی کی گئی ہے، جبکہ چاول، گنا، کپاس، گندم اور مکئی جیسی اہم فصلیں بارشوں اور سیلاب سے بری طرح متاثر ہوئی ہیں، جس کا براہ راست اثر نہ صرف دیہی معیشت بلکہ قومی غذائی تحفظ پر بھی پڑے گا۔
شرح نمو اور افراطِ زر کی پیش گوئیاں
عالمی بینک نے رواں مالی سال (2025-2026) میں پاکستان کی شرح نمو 2.6 فیصد تک محدود رہنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے، تاہم اگلے مالی سال میں بہتری کی توقع کے تحت شرح نمو 3.4 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔
اگرچہ رپورٹ کے مطابق رواں سال افراط زر سنگل ڈیجٹ میں رہنے کی توقع ہے، مگر سیلاب کے اثرات کے باعث 2027 تک مہنگائی کے دوبارہ بڑھنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
اصلاحات کی اہمیت پر زور
رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ زرعی پیداوار میں بہتری، افراطِ زر اور شرح سود میں کمی ملک کی ترقی میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ اسی طرح ٹیرف ریفارمز سے نہ صرف برآمدات میں اضافہ ممکن ہے بلکہ مجموعی اقتصادی نمو کو بھی تقویت مل سکتی ہے۔






