اہم خبریںدنیالمحہ با لمحہ

فرانس میں نئی کابینہ تشکیل، سیاسی بحران مزید گہرا ہونے کا خدشہ

پیرس – فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اتوار کے روز نئی کابینہ کا اعلان کر دیا، جس میں زیادہ تر پرانے چہرے برقرار رکھے گئے ہیں۔ یہ اعلان وزیراعظم سیباستیان لکورنو کی تقرری کے تقریباً ایک ماہ بعد سامنے آیا، جو میکرون کے دور صدارت کے ساتویں وزیرِاعظم ہیں۔

نئی کابینہ ایسے وقت میں تشکیل دی گئی ہے جب ملک شدید سیاسی تعطل کا شکار ہے۔ قومی اسمبلی میں حکومت کو اکثریت حاصل نہیں اور اپوزیشن نے نئی کابینہ کو "ماضی کی سیاست کا تسلسل” قرار دیتے ہوئے عدم اعتماد کی تحریک لانے کی دھمکی دی ہے۔

اہم وزارتوں میں رد و بدل اور تنقید کا سلسلہ

سابق وزیرِ معیشت برونو لے میر کو نیا وزیرِ دفاع بنایا گیا ہے۔

رولان لیسکیور کو معاشی امور کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، جن کے سامنے 2026 کا سخت بجٹ سب سے بڑا چیلنج ہوگا۔

وزرائے خارجہ، داخلہ، انصاف اور ثقافت کو ان کے عہدوں پر برقرار رکھا گیا ہے۔ ان میں رشیدہ داتی بھی شامل ہیں جو اس وقت کرپشن کیس کا سامنا کر رہی ہیں۔

اپوزیشن کا شدید ردِعمل

اپوزیشن رہنماؤں نے نئی کابینہ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا:

دائیں بازو کی مقبول رہنما میرین لی پین نے کابینہ کو "قابلِ رحم” قرار دیا۔

بائیں بازو کے رہنما جاں لوک میلانشوں نے اسے "ماضی کے بھوتوں کی پریڈ” قرار دے کر مسترد کر دیا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اگر وزیراعظم سیباستیان لکورنو اپوزیشن کو قائل نہ کر سکے تو اگلے ہفتے تک ان کی برطرفی ممکن ہے۔

اقتصادی دباؤ اور عوامی ناراضگی

فرانس کی قومی قرضہ جات کی شرح ریکارڈ سطح تک پہنچ چکی ہے، اور صدر میکرون کی مقبولیت میں تاریخی کمی آئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ حکومت گر گئی تو صدر میکرون کے پاس اسمبلی تحلیل کرنے اور نئے انتخابات کرانے کے سوا کوئی آپشن نہیں بچے گا۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button