تل ابیب: اسرائیلی بحریہ نے غزہ کی محصور آبادی کے لیے امداد لے جانے والے عالمی فلوٹیلا "گلوبل صمود فلوٹیلا” پر ایک بڑا فوجی آپریشن کرتے ہوئے 42 کشتیوں کو اپنی تحویل میں لے لیا اور ان میں سوار 450 سے زائد سماجی و سیاسی کارکنوں کو گرفتار کر لیا۔
فلوٹیلا کے منتظمین کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں پاکستانی سابق سینیٹر مشتاق احمد، معروف سویڈش ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ، اور نیلسن مینڈیلا کے پوتے نکوسی زویلیولیلی بھی شامل ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیلی بحریہ نے کشتیوں کا مواصلاتی نظام جام کر دیا اور براہِ راست نشریات بھی بند کر دی گئیں تاکہ قافلے کو دنیا سے الگ کیا جا سکے۔
کشتیوں کو اشدود بندرگاہ منتقل کر دیا گیا
اطلاعات کے مطابق، تمام کشتیوں کو اسرائیل کے ساحلی شہر اشدود منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں سے تمام غیر ملکی کارکنوں کو یورپ ڈی پورٹ کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
کچھ کشتیاں اب بھی آزاد سمت میں رواں
منتظمین کا کہنا ہے کہ فلوٹیلا کی ایک کشتی "میرینیٹ” اب بھی اپنی منزل — غزہ — کی طرف بڑھ رہی ہے۔ عرب صحافی حسن مسعود نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا ہے کہ ایک اور کشتی "میکینو” غزہ کی سمندری حدود میں داخل ہو چکی ہے۔
نیتن یاہو کا آپریشن کا دفاع، دنیا بھر میں احتجاج
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے آپریشن کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام قومی سلامتی کے لیے ضروری تھا اور بحریہ کو کامیاب کارروائی پر شاباش دی۔
دوسری جانب، یورپ، جنوبی امریکا، اور مشرق وسطیٰ سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں فلوٹیلا پر حملے کے خلاف شدید احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ گرفتار شدہ تمام افراد کو فوری رہا کیا جائے اور انسانی امداد کو غزہ پہنچنے دیا جائے۔






