اہم خبریںپاکستانتازہ ترین

"نواز شریف کی بیٹی ہوں، معافی نہیں مانگوں گی” — مریم نواز کا دوٹوک مؤقف، ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں کشیدگی شدت اختیار کر گئی

لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی سے معافی نہیں مانگیں گی، کیونکہ وہ "نواز شریف کی بیٹی” ہیں۔ ان کے حالیہ بیانات نے نہ صرف سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ کر دیا ہے بلکہ ن لیگ اور اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کے مابین تعلقات میں بھی شدید تناؤ پیدا کر دیا ہے۔

لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا:

"جب پنجاب کی بات آئے گی تو خاموش نہیں رہوں گی۔ نواز شریف کی بیٹی ہوں، معافی ہرگز نہیں مانگوں گی۔”

انہوں نے مزید کہا کہ سیلاب کے دوران "لیکچر دیا گیا کہ دنیا کے آگے ہاتھ پھیلاؤ، لیکن میں اپنے لوگوں کو کشکول نہیں پکڑنے دوں گی۔” ساتھ ہی انہوں نے آئی ایم ایف کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا:

"آج ہم آئی ایم ایف کے غلام بنے ہوئے ہیں۔ کچھ کرنے کا سوچتی ہوں تو سننے کو ملتا ہے کہ آئی ایم ایف نہیں مانے گا، یہ کتنی بڑی تذلیل ہے۔”

مریم نواز نے کہا کہ عوام کو ان لوگوں میں فرق کرنا ہوگا جو کام کرتے ہیں اور جو صرف باتیں کرتے ہیں۔

"اگر اللہ نے پورے پانچ سال دیے تو پنجاب بہت ترقی یافتہ صوبہ بن جائے گا۔”

سیاسی کشیدگی میں اضافہ

وزیراعلیٰ کے بیانات، خصوصاً نہروں کی تعمیر اور سندھ حکومت پر تنقید، نے پیپلز پارٹی کو نالاں کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کی قیادت نے ان بیانات کو ناقابل قبول قرار دیا ہے اور حالیہ دنوں میں ن لیگ سے فاصلہ اختیار کرنا شروع کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ پیپلز پارٹی وفاق اور پنجاب میں ن لیگ کی حکومت کو حمایت فراہم کر رہی ہے، تاہم حالیہ کشیدگی کے باعث پی پی نے قومی اسمبلی سے بائیکاٹ کیا تھا، جبکہ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کو اسمبلی فلور پر معذرت کرنا پڑی تھی۔

ذرائع کے مطابق ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان معاملات کو سلجھانے کے لیے مذاکرات کے دو دور بھی ہو چکے ہیں، تاہم مریم نواز کے تازہ ترین بیانات نے ان کوششوں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔

دونوں جماعتوں کی دوسری صف کی قیادت کی جانب سے بھی مسلسل ایک دوسرے پر الزامات کا سلسلہ جاری ہے، جس سے سیاسی فضا مزید کشیدہ ہوتی جا رہی ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button