لندن (ویب ڈیسک) — برطانوی حکومت نے موٹاپے کی بڑھتی ہوئی شرح اور خاص طور پر بچوں میں موٹاپے کو روکنے کے لیے اہم اقدام اٹھاتے ہوئے غیر صحت بخش کھانے پینے کی اشیاء پر "بائے وَن گیٹ وَن فری” (Buy One Get One Free) جیسی ڈیلز پر پابندی عائد کر دی ہے۔
نئی پابندیاں آج سے انگلینڈ بھر میں نافذ العمل ہو چکی ہیں اور اس کا اطلاق سپر مارکیٹس، ہائی اسٹریٹ اسٹورز اور آن لائن ریٹیلرز پر یکساں ہوگا۔
غیر صحت بخش کھانے پر پروموشن ختم
اس فیصلے کے تحت اب:
’بائے ون گیٹ ون فری‘
’ملٹی بائے‘ آفرز
کیفیز اور ریسٹورینٹس میں مشروبات کی مفت ری فِل پروموشنز
جیسے پرکشش مگر غیر صحت مند پروموشنز ختم کر دی گئی ہیں۔
بچوں کو موٹاپے سے بچانا مقصد
برطانوی وزارتِ صحت و سماجی بہبود کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام بچوں کی صحت مند زندگی کی بنیاد رکھنے کے لیے ناگزیر تھا۔ ان کے مطابق:
"موٹاپا نہ صرف بچوں کو بچپن میں فعال زندگی سے دور رکھتا ہے بلکہ طویل المدتی بیماریاں لاحق ہونے کا خدشہ بھی بڑھا دیتا ہے، جس کا بوجھ براہِ راست NHS پر پڑتا ہے۔”
اگلا قدم: جَنک فوڈ اشتہارات پر پابندی
برطانوی میڈیا کے مطابق اگلے مرحلے میں 2026 کے آغاز سے رات 9 بجے سے پہلے ٹی وی پر اور مکمل طور پر آن لائن ’جنک فوڈ‘ کی تشہیر پر بھی مکمل پابندی عائد کر دی جائے گی۔
برسوں سے زیرِ غور اقدام
یہ قانون کئی برسوں سے زیرِ غور تھا لیکن مہنگائی اور معاشی دباؤ کے باعث حکومت اس پر عملدرآمد سے گریز کر رہی تھی۔ اب برطانوی وزراء نے اسے "موٹاپے کے خلاف جنگ میں ایک اہم موڑ” قرار دیا ہے۔
برطانیہ میں موٹاپے کی صورتحال:
ہر 3 میں سے 1 بچہ یا نوجوان موٹاپے یا زیادہ وزن کا شکار ہے
NHS کو موٹاپے سے متعلق امراض پر سالانہ اربوں پاؤنڈز کا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے
2030 تک بچوں میں موٹاپے کی شرح میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے






