ویب ڈیسک: امریکا میں وفاقی حکومت شٹ ڈاؤن کا شکار ہو گئی ہے، کیونکہ امریکی سینیٹ میں اخراجات کا بل ایک بار پھر منظوری حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ بل کی منظوری نہ ملنے کے باعث 400 سے زائد وفاقی ایجنسیاں غیر معینہ مدت تک بند رہیں گی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، سو رکنی سینیٹ میں بل کی منظوری کے لیے کم از کم 60 ووٹ درکار تھے، تاہم حکمراں جماعت کے پاس صرف 53 ووٹ موجود تھے۔ ڈیموکریٹس کی جانب سے پیش کردہ اخراجات بل پہلے ہی ایک بار مسترد کیا جا چکا تھا، جس کے حق میں 47 اور مخالفت میں 53 ووٹ ڈالے گئے تھے۔
وائٹ ہاؤس نے موجودہ شٹ ڈاؤن کا ذمہ دار ڈیموکریٹک پارٹی کو قرار دیا ہے، جب کہ ڈیموکریٹس کا مؤقف ہے کہ حکومت کی جانب سے سیاسی مفاہمت کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔
شٹ ڈاؤن کے باعث ہزاروں وفاقی ملازمین کو بغیر تنخواہ کام کرنا پڑے گا یا چھٹیوں پر بھیجا جا سکتا ہے، جبکہ عوامی خدمات میں بھی بڑے پیمانے پر خلل پڑنے کا خدشہ ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ تعطل برقرار رہا تو اس کے امریکا کی معیشت اور عالمی سطح پر سرمایہ کاری کے ماحول پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔






