مہنگائی پہلے ہی ناقابلِ برداشت ، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، شہریوں کا شدید ردعمل
اسلام آباد: حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو عوام نے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ ملک کے مختلف شہروں میں شہریوں نے پٹرول مہنگا ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی پہلے ہی ناقابلِ برداشت ہو چکی ہے اور اب پٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے نہ صرف روزمرہ اخراجات بڑھیں گے بلکہ پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی اضافہ ناگزیر ہو جائے گا۔ ایک شہری نے شکوہ کیا، "مہنگائی نے جینا محال کر دیا ہے، دو وقت کی روٹی کھانا بھی مشکل ہو چکا ہے۔” ایک اور شہری نے کہا، "حکومت کو عوام کے مسائل کا احساس ہونا چاہیے، نہ کہ ہر پندرہ دن بعد قیمتیں بڑھا کر زندگی مزید مشکل بنائی جائے۔”
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قیمتوں میں حالیہ اضافہ فوری طور پر واپس لے اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے جامع اور مؤثر حکمت عملی مرتب کرے۔
یاد رہے کہ وزارت خزانہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق:
پٹرول کی قیمت 4 روپے 7 پیسے اضافے کے بعد 264.61 روپے سے بڑھ کر 268.68 روپے فی لٹر ہو گئی ہے۔
ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 4 روپے 4 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے، نئی قیمت 272.77 روپے سے بڑھ کر 276.81 روپے فی لٹر مقرر کی گئی ہے۔
وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہو چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تسلسل سے ہونے والے اضافے کا براہ راست اثر غریب اور متوسط طبقے پر پڑتا ہے، جبکہ اس کے نتیجے میں مہنگائی کا نیا طوفان آنے کا خدشہ بھی موجود ہے۔






