اسلام آباد/قاہرہ (نمائندہ) — پاکستان، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکی، سعودی عرب، مصر اور قطر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غزہ جنگ بندی اور امن منصوبے کا خیرمقدم کیا ہے اور امن کی کوششوں کو سراہتے ہوئے منصوبے پر تعمیری بات چیت کے لیے آمادگی کا اظہار کیا ہے۔
حالیہ مشترکہ بیانات اور سرکاری اعلانات کے مطابق ان ممالک نے کہا ہے کہ وہ غزہ جنگ ختم کرنے اور علاقے میں پائیدار امن و استحکام کے قیام کے سلسلے میں ٹرمپ کی مخلصانہ کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکی، قطر اور مصر کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ بیان جاری کر کے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ مثبت اور تعمیری بات چیت کے ذریعے مسئلے کے حل میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔
مشترکہ بیان میں نمایاں نکات
وزرائے خارجہ نے کہا کہ ٹرمپ امن کا راستہ تلاش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اس سلسلے میں پیش کردہ تجاویز قابلِ غور ہیں۔
بیانیہ میں مغربی کنارے (West Bank) کے اسرائیلی الحاق کی اجازت نہ دینے کا خیرمقدم کیا گیا۔
ممالک نے دو ریاستی حل اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کو دہرایا۔
مسلم ممالک نے غزہ کی فوری تعمیر نو اور اسرائیلی انخلا کے لیے زور دیا اور معاہدے کے نفاذ میں تعاون کی پیشکش کی۔
پاکستان نے غزہ جنگ بندی اور فلسطینیوں کی بے دخلی روکنے کے اعلان کو امن کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا۔
ٹرمپ کے منصوبے کے اہم نکات (رپورٹ کے مطابق)
غزہ میں عارضی عبوری حکومت قائم کی جائے گی جس میں فلسطینی نمائندے اور عالمی ماہرین شامل ہوں گے؛ یہ حکومت نئی بین الاقوامی تنظیم کے تحت کام کرے گی۔
فوری جنگ بندی اور موجودہ جنگی محاذوں پر لڑائی روکنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
منصوبے میں 48 گھنٹوں کے اندر تمام 20 زندہ یرغمالیوں کی رہائی اور 24 مردہ یرغمالیوں کی باقیات کی واپسی شامل ہے۔
حماس کے تمام جارحانہ ہتھیار تباہ کرنے کی شق بھی مجوزہ منصوبے کا حصہ ہے۔
ردعمل اور آئندہ راستہ
مختلف مسلم و عرب حکومتوں نے اس منصوبے کو ایک سنجیدہ امن پیشکش قرار دیا ہے اور زور دیا ہے کہ کسی بھی حل کا مستقل نتیجہ صرف بات چیت، بین الاقوامی شفافیت اور فریقین کی منظوری سے ممکن ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے کہا ہے کہ غزہ معاہدے کے عملی نفاذ اور انسانی امداد کی رسائی کو یقینی بنانے کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی کوششیں درکار ہوں گی۔






